صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5532
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَعَهُ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ "، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: لَا، قَالَ: لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ.
بکیر نے کہا: عبدالرحمان بن قاسم نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصاویر تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لیے، (جب یہ حدیث بیان کی جا رہی تھی) تو اس مجلس میں ایک شخص نے، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے، بنو زہری کے مولیٰ تھے، کہا: کیا آپ نے ابومحمد (قاسم بن محمد) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں (تکیوں) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟ تو (عبدالرحمان) ابن قاسم نے کہا: نہیں، اس نے کہا: لیکن میں نے یقیناً (ان سے) یہ بات سنی تھی۔ ان کی مراد (ان کے والد) قاسم بن محمد سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5532]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے تصویروں والا ایک پردہ لٹکایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھینچ ڈالا تو میں نے اسے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اس وقت مجلس میں ایک آدمی جسے ربیعہ بن عطاء کہا جاتا تھا اور وہ بنو زہرہ کا آزاد کردہ غلام تھا، اس نے کہا: کیا آپ نے ابو محمد کو یہ بیان کرتے نہیں سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آرام فرماتے تھے؟ ابن قاسم نے کہا: نہیں، لیکن یہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5532]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2479
| هتكه النبي فاتخذت منه نمرقتين كانتا في البيت يجلس عليهما |
صحيح البخاري |
5952
| لم يكن يترك في بيته شيئا فيه تصاليب إلا نقضه |
صحيح مسلم |
5521
| حولي هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا لنا قطيفة كنا نقول علمها حرير فكنا نلبسها |
صحيح مسلم |
5523
| أمرني فنزعته |
صحيح مسلم |
5531
| سترت نمطا فيه تصاوير نحاه فاتخذت منه وسادتين |
صحيح مسلم |
5532
| نصبت سترا فيه تصاوير دخل رسول الله فنزعه قالت فقطعته وسادتين |
صحيح مسلم |
5529
| أخريه عني قالت فأخرته فجعلته وسائد |
جامع الترمذي |
2468
| انزعيه فإنه يذكرني الدنيا لنا سمل قطيفة تقول علمها من حرير كنا نلبسها |
سنن أبي داود |
4151
| لا يترك في بيته شيئا فيه تصليب إلا قضبه |
سنن النسائى الصغرى |
5356
| أخريه عني فنزعته فجعلته وسائد |
سنن النسائى الصغرى |
5354
| علقت قراما فيه الخيل أولات الأجنحة لما رآه قال انزعيه |
سنن النسائى الصغرى |
5355
| حوليه فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا لنا قطيفة لها علم فكنا نلبسها لم نقطعه |
سنن النسائى الصغرى |
762
| أخريه عني فنزعته فجعلته وسائد |
سنن النسائى الصغرى |
5357
| نصبت سترا فيه تصاوير دخل رسول الله فنزعه فقطعته وسادتين |
سنن ابن ماجه |
3653
| رأيت النبي متكئا على إحداهما |
Sahih Muslim Hadith 5532 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق