🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب تحريم تصوير صورة الحيوان وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه وان الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب 
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2108 ترقیم شاملہ: -- 5535
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ جميعا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ".
عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تصویریں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے تخلیق کیا (اب ان کو زندہ کرو۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5535]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تصویریں بناتے ہیں، انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا، جن کی تم نے تخلیق کی تھی، ان کو زندہ کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5535]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2108
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5951
الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم أحيوا ما خلقتم
صحيح البخاري
7558
أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم أحيوا ما خلقتم
صحيح مسلم
5535
الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم أحيوا ما خلقتم
سنن النسائى الصغرى
5364
أصحاب هذه الصور الذين يصنعونها يعذبون يوم القيامة يقال لهم أحيوا ما خلقتم
المعجم الصغير للطبراني
1049
يبعث المصورون يوم القيامة يقال لهم أحيوا ما خلقتم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5535 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5535
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بے جان تصویر یا مجسم میں زندگی پیدا کرنا یا اس کو زندگی بخشنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے،
اس لئے اس سے مقصود سرزنش و توبیخ اور عذاب کی طوالت ہے،
اس لیے بعض روایات میں تصریح موجود ہے،
وہ ان میں زندگی پیدا نہیں کر سکے گا،
یا روح نہیں پھونک سکے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5535]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5364
قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5364]
اردو حاشہ:
اور کہا جائے گا گویا عذاب اس کے علاوہ بھی ہوگا۔ اور یہ کہنا الگ عذاب ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5364]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5951
5951. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ یہ تصاویر بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا جو تم نے بنایا ہے اس میں روح بھی ڈالو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5951]
حدیث حاشیہ:
مراد وہ مورتیں ہیں جو پوجنے کے لیے بنائی جائیں ایسی مورتیں بنانے والے کافر ہیں وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اگر پوجنے کے لیے نہ بنائیں تب بھی جاندار کی مورت بنانا کبیرہ گناہ ہے، اس کو سخت عذاب ہو گا بے جان اشیاء کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے مگر جاندار کا فوٹو کھینچنا بھی نا جائز ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5951]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5951
5951. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ یہ تصاویر بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا جو تم نے بنایا ہے اس میں روح بھی ڈالو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5951]
حدیث حاشیہ:
(1)
جاندار کی تصویر بنانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے لیکن جو ایسی تصاویر بناتے ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے وہ تو سرے سے کافر ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
اگر عبادت کے لیے نہ ہو تو بھی سخت ترین سزا سے دوچار ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے، پھر اس میں بھی کوئی امتیاز نہیں کہ تصویر کپڑے پر ہو یا کاغذ پر یا کسی سکے پر نقش ہو یا کسی دیوار پر کندہ ہو، سب کے لیے مذکورہ وعید ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تین قسم کی تصاویر تھیں:
٭لکڑی اور پتھروں کے بت بنائے جاتے، جنہیں تمثال کہا جاتا تھا۔
ان کا باقاعدہ جسم ہوتا تھا اور انہیں عبادت کے لیے تراشا جاتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا کہ اس قسم کی مورتیوں کو توڑ دیا جائے۔
ان کا تراشنا اور ان کا رکھنا حرام ہے۔
٭کپڑوں پر تصاویر کے نقش ہوتے تھے، ان کا الگ کوئی وجود نہ تھا۔
ان کے متعلق حکم دیا کہ ایسے کپڑوں کو پھاڑ دیا جائے یا انہیں نیچے بچھا کر ان کی توہین کی جائے یا ان کے سر کاٹ کر درختوں کی طرح بنا دیا جائے۔
اس قسم کی تصاویر کے متعلق بھی سخت ممانعت ہے۔
٭ شیشے پر کسی چیز کا عکس ابھر آتا ہے اسے بھی تصویر کا نام دیا جاتا ہے، جب انسان شیشے کے سامنے ہوتا ہے تو تصویر برقرار رہتی ہے جب بندہ اس کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے تو تصویر بھی غائب ہو جاتی ہے، اس کے متعلق کوئی وعید نہیں بلکہ اسے دیکھ کر ایک دعا پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
(3)
دور حاضر میں دو قسم کی مزید تصاویر بھی ہمارے سامنے آئی ہیں، ان کا حکم بھی درج بالا تصاویر سے ملتا جلتا ہے۔
وہ تصاویر حسب ذیل ہے:
٭کاغذ پر چھپی ہوئی تصویر جیسا کہ اخبارات و جرائد میں مختلف قسم کے فوٹو شائع ہوتے ہیں۔
اس تصویر کا وہی حکم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کپڑے پر نقش تصویر کا ہے۔
٭ویڈیو کی تصویر جسے لہروں کے ذریعے سے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
اس کے متعلق مختلف آراء ہیں کچھ اہل علم اسے شیشے کی تصویر پر قیاس کر کے اس کا جواز ثابت کرتے ہیں اور کچھ اسے دوسری تصاویر کے ساتھ ملا کر اس کے متعلق حرمت کا فتویٰ دیتے ہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق ویڈیو کی تصویر بھی کپڑے پر بنی ہوئی تصویر کے حکم میں ہے کیونکہ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور جب بھی ضرورت پڑے اسے دیکھا جا سکتا ہے فتنے کا دروازہ بند کرنے کے لیے اسے ناجائز قرار دینا ہی مناسب ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5951]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7558
7558. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا تھا انہیں زندہ کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7558]
حدیث حاشیہ:
ان احادیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ جن لوگوں کا دعوی ہے کہ بندے اپنے افعال کے خود خالق ہیں اگر ان کا دعوی صحیح ہوتا تو تصاویر بنانے والوں کو اس قدر شرمسار اور ذلیل نہ کیا جاتا۔
ان کی طرف پیدا کرنے کی نسبت بطور استہزا ہے دراصل ان کا کسب اور فعل تھا یا ان کے زعم فاسد کی بنیاد پر خلق کا اطلاق کیا گیا ہے۔
بہرحال تصویر بنانا ان کا فعل اور عمل ہے جس کی بنیاد پر انھیں عذاب کا حق اور ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ انھوں نے اسے اپنے ارادے اور اختیار سے بنایا تھا اور یہ ان کا حقیقی فعل تھا جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا کیونکہ اس نے ہی اس عمل کا راستہ ان کے لیے آسان کیا تھا۔
چونکہ انھوں نے اپنے ارادے کو استعمال کرتے ہوئے اسے اختیار کیا۔
اس لیے عذاب کے مستحق ہوئے۔
انتہائی ضروری نوٹ:
۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تین قسم کی تصاویر تھیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہیں۔
لکڑی اور پتھروں کے بت تھے جنھیں تمثال کہا جاتا تھا۔
ان کا جسم ہوتا تھا ان کی عبادت کے لیے انھیں تراشا جاتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس قسم کی مورتیوں کو توڑ دیا جائے۔
کپڑوں پر تصاویر کے نقش ہوتے تھے۔
ان کا الگ کوئی وجود نہ تھا۔
ان کے متعلق حکم دیا کہ ایسے کپڑوں کو پھاڑ دیا جائے یا انھیں نیچے بچھا کر ان کی توہین کی جائے یا ان کے سر کاٹ کر درختوں کی طرح بنا لیا جائے۔
بہر حال اس قسم کی تصاویر کے متعلق بھی سخت ممانعت ہے۔
شیشے پر کسی چیز کا عکس آتا، اسے بھی تصویر کا نام دیا جاتا۔
جب انسان شیشے کے سامنے ہوتا وہ تصویر برقرار رہتی۔
جب اس کے سامنے سے ہٹ جاتا تو تصویر بھی غائب ہو جاتی۔
اس کے متعلق کوئی وعید نہیں ہے بلکہ اسے دیکھ کر ایک دعا پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
دور حاضر میں دو تصاویر مزید ہمارے سامنے آئی ہیں ان کا حکم بھی درج بالا تصاویر کے حکم سے ملتا جلتا ہے۔
وہ تصاویر یہ ہیں۔
کاغذ پر چھپی ہوئی تصویر جیسا کہ اخبارات میں فوٹو شائع ہوتے ہیں۔
اس کا وہی حکم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کپڑے پر نقش تصویر کا ہے۔
ویڈیوں کی تصویر جسے لہروں کے ذریعے سے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
اس کے متعلق علماء کی مختلف آراء ہیں۔
بعض اسے شیشے کی تصویر سے ملحق کر کے اس کے جواز کو ثابت کرتے ہیں اور بعض اسے دوسری تصاویر کے ساتھ ملا کر اس کے متعلق حرمت کا فتوی دیتے ہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق اسے کپڑے پر نقش تصویر کی طرح قراردینا مناسب ہے کیونکہ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے جب بھی ضرورت پڑے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔
فتنے کے سد باب کے لیے اسے ناجائز قرار دینا ہی مناسب ہے ہاں اگر کوئی ضرورت ہو تو اس کے متعلق نرم گوشہ رکھا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7558]