علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب كراهة الكلب والجرس في السفر:
باب: سفر میں گھنٹی اور کتا رکھنے کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 2113 ترقیم شاملہ: -- 5546
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ ".
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رحمت کے) فرشتے (سفر کے) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہو اور نہ (ان کے ساتھ جن کے پاس) گھنٹی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5546]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس قافلہ والوں کے ساتھ نہیں رہتے جس میں کتا اور گھنٹی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2113
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5546
| لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس |
جامع الترمذي |
1703
| لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس |
سنن أبي داود |
2555
| لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب أو جرس |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5546 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5546
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قافلہ والوں نے کتا اگر شوقیہ طور پر ساتھ رکھا ہو،
قافلہ کی حفاظت اور چوروں سے آگاہی اور بیداری کے لیے نہ ہو اور اس طرح گھنٹی بلا ضرورت و مقصد محض زینت و زیبائش اور شوق کے لیے ہو،
کوئی ضرورت اور مقصد نہ ہو تو یہ دونوں چیزیں جمہور فقہاء کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں،
اگر کسی واقعی ضرورت کے لیے ہوں تو پھر بعض نے اس کی گنجائش رکھی ہے،
کیونکہ آپ نے کھیتی اور مویشیوں کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی ہے۔
فوائد ومسائل:
قافلہ والوں نے کتا اگر شوقیہ طور پر ساتھ رکھا ہو،
قافلہ کی حفاظت اور چوروں سے آگاہی اور بیداری کے لیے نہ ہو اور اس طرح گھنٹی بلا ضرورت و مقصد محض زینت و زیبائش اور شوق کے لیے ہو،
کوئی ضرورت اور مقصد نہ ہو تو یہ دونوں چیزیں جمہور فقہاء کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں،
اگر کسی واقعی ضرورت کے لیے ہوں تو پھر بعض نے اس کی گنجائش رکھی ہے،
کیونکہ آپ نے کھیتی اور مویشیوں کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5546]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1703
گھوڑوں کے گلے میں گھنٹیاں لٹکانے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1703]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1703]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسے کتے جو شکار یانگرانی کے لیے ہوں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں،
گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے دشمن کو گھوڑے کے مالک کی بابت اطلاع ہوجاتی ہے،
اس لیے اسے ناپسند کیا گیا،
اور گھنٹی سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جانور کی گردن میں لٹکا دی جائے تو حرکت کے ساتھ آواز ہوتی رہے۔
وضاحت:
1؎:
ایسے کتے جو شکار یانگرانی کے لیے ہوں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں،
گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے دشمن کو گھوڑے کے مالک کی بابت اطلاع ہوجاتی ہے،
اس لیے اسے ناپسند کیا گیا،
اور گھنٹی سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جانور کی گردن میں لٹکا دی جائے تو حرکت کے ساتھ آواز ہوتی رہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1703]
Sahih Muslim Hadith 5546 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي