الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب استحباب تغيير الاسم القبيح إلى حسن وتغيير اسم برة إلى زينب وجويرية ونحوهما:
باب: برے نام کا بدل ڈالنا مستحب ہے اور برّہ کو زینب سے بدلنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2139 ترقیم شاملہ: -- 5604
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ ". قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ، أَخْبَرَنِي عَنْ.
احمد بن حنبل، زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے (ان سب نے) کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کا نام تبدیل کر دیا اور فرمایا: ”تم جمیلہ (خوبصورت) ہو۔“ احمد نے (مجھے خبر دی) کی جگہ (سے روایت ہے۔) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5604]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمان) نام بدل کر فرمایا: ”تم جمیلہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5604]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5605
| سماها رسول الله جميلة |
صحيح مسلم |
5604
| غير اسم عاصية وقال أنت جميلة |
جامع الترمذي |
2838
| غير اسم عاصية وقال أنت جميلة |
سنن أبي داود |
4952
| غير اسم عاصية وقال أنت جميلة |
سنن ابن ماجه |
3733
| سماها رسول الله جميلة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5604 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5604
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے ناموں سے روکا ہے (1)
جن کا معنی ناپسندیدہ ہے،
جیسے عاصیہ،
یعنی نافرمان،
حالانکہ ایک مسلمان کے لیے نافرمانی زیبا نہیں ہے،
چہ جائیکہ کہ اس کا نام نافرمان رکھ دیا جائے۔
(2)
جن ناموں سے بدشگونی کا اندیشہ ہے،
جبکہ بدشگونی جائز نہیں ہے،
جیسے افلح،
نجیح اور یسار وغیرہ۔
(3)
جن میں اپنا تزکیہ اور صفائی پیش کی گئی ہے،
جیسے برہ،
وفادار،
اطاعت گزار،
اگرچہ یہ دوسری قسم میں بھی داخل ہے اور اس سے بدشگونی کا اندیشہ ہے یعنی نفی کی صورت میں۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے ناموں سے روکا ہے (1)
جن کا معنی ناپسندیدہ ہے،
جیسے عاصیہ،
یعنی نافرمان،
حالانکہ ایک مسلمان کے لیے نافرمانی زیبا نہیں ہے،
چہ جائیکہ کہ اس کا نام نافرمان رکھ دیا جائے۔
(2)
جن ناموں سے بدشگونی کا اندیشہ ہے،
جبکہ بدشگونی جائز نہیں ہے،
جیسے افلح،
نجیح اور یسار وغیرہ۔
(3)
جن میں اپنا تزکیہ اور صفائی پیش کی گئی ہے،
جیسے برہ،
وفادار،
اطاعت گزار،
اگرچہ یہ دوسری قسم میں بھی داخل ہے اور اس سے بدشگونی کا اندیشہ ہے یعنی نفی کی صورت میں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5604]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4952
برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4952]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4952]
فوائد ومسائل:
عرب لوگ عاس اور عاصیہ نام رکھتے تھے۔
ان سے مراد ہوتی تھے ظلم و ذیادتی اور برائی سے انکار کرنے والا کرنے والی۔
مگر اس میں عصیان نافرمانی کا مفہوم بھی ہے۔
اس لیے اس نام کو بدل دیا گیا۔
عرب لوگ عاس اور عاصیہ نام رکھتے تھے۔
ان سے مراد ہوتی تھے ظلم و ذیادتی اور برائی سے انکار کرنے والا کرنے والی۔
مگر اس میں عصیان نافرمانی کا مفہوم بھی ہے۔
اس لیے اس نام کو بدل دیا گیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4952]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3733
نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ”عاصیہ“ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ”عاصیہ“ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(عاصية)
کا مطلب ”نافرمان“ ہے۔
مسلمان فرماں بردار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
فرعون کی مومن بیوی کا نام حضرت ”آسیہ“ تھا۔
یہ نام رکھنا جائز ہے۔
فوائد و مسائل:
(عاصية)
کا مطلب ”نافرمان“ ہے۔
مسلمان فرماں بردار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
فرعون کی مومن بیوی کا نام حضرت ”آسیہ“ تھا۔
یہ نام رکھنا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3733]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2838
خراب نام کی تبدیلی کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: ”تیرا نام جمیلہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2838]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: ”تیرا نام جمیلہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2838]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2838]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي