🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب لكل داء دواء واستحباب التداوي:
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2204 ترقیم شاملہ: -- 5741
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَال: " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بیماری کی دوا ہے، جب کوئی دوا بیماری پر ٹھیک بٹھا دی جاتی ہے تو مریض اللہ تعالیٰ کے حکم سے تندرست ہو جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5741]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بیماری کی دوا ہے تو جب دوا بیماری سے مناسبت رکھتی ہے، یا ٹھیک بیٹھتی ہے تو اللہ عزوجل کے اذن سے شفا مل جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5741]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2204
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبد ربه بن سعيد الأنصاري
Newعبد ربه بن سعيد الأنصاري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← عبد ربه بن سعيد الأنصاري
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن أبي موسى المصري، أبو عبد الله
Newأحمد بن أبي موسى المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← أحمد بن أبي موسى المصري
ثقة
👤←👥هارون بن معروف المروزي، أبو علي
Newهارون بن معروف المروزي ← أحمد بن عمرو القرشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5741 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5741
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر بیماری کا علاج اور دوا ہے،
کوئی بیماری لا علاج نہیں ہے،
لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ بیماری کی دوا کا علم ہو سکے،
جب اللہ تعالیٰ بیماری کو توڑنا چاہتا ہے تو اس کی دوا کا پتہ چل جاتا ہے اور جب دوا اور داء میں مناسبت اور موافقت پیدا ہو جاتی ہے تو اللہ کی اجازت سے شفا حاصل ہو جاتی ہے،
دوا محض ایک وسیلہ اور واسطہ ہے،
شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے،
جب تک اس کو منظور نہ ہو شفا نہیں ملتی اور اس عقیدہ کے تحت علاج معالجہ کروانا اور کرنا،
جمہور سلف کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے،
اس لیے غالی صوفیوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بیماری اللہ کی قضا اور قدر سے ہے،
اس لیے علاج کی ضرورت نہیں ہے،
کیونکہ علاج اور دوا بھی اللہ کی قضاء اور قدر میں داخل ہیں،
اس کی مشیت اور اذن کے بغیر شفا نہیں ملتی،
جس طرح اللہ تعالیٰ نے دعاء کا حکم دیا ہے،
کفار سے جنگ اور قتال کا حکم دیا ہے،
اپنی حفاظت اور دفاع کا حکم دیا ہے،
اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے،
حالانکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے،
اس میں تقدیم اور تاخیر ممکن نہیں ہے،
یہی صورت حال دوا کی ہے،
صحت و شفاء اللہ کے قبضہ میں ہے،
جب وہ صحت دینا چاہتا ہے،
دوا بیماری کے موافق بیٹھتی ہے اور اللہ کے اذن سے شفاء ہو جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5741]