🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب لكل داء دواء واستحباب التداوي:
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2205 ترقیم شاملہ: -- 5742
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَادَ الْمُقَنَّعَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِيهِ شِفَاءً ".
بکیر نے کہا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انہیں حدیث سنائی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع (بن سنان تابعی) کی عیادت کی، پھر فرمایا: میں (اس وقت تک) یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنا نہ لگوا لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں: یقیناً اس میں شفا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5742]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما مقنع رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے، پھر کہنے لگے: میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک تم سنگی نہیں لگواتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بلاشبہ اس میں شفا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2205
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عاصم بن عمر الأنصاري، أبو محمد، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن عمر الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← عاصم بن عمر الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥هارون بن معروف المروزي، أبو علي
Newهارون بن معروف المروزي ← أحمد بن عمرو القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5697
لا أبرح حتى تحتجم فإني سمعت رسول الله يقول إن فيه شفاء
صحيح مسلم
5742
لا أبرح حتى تحتجم فإني سمعت رسول الله يقول إن فيه شفاء
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5742 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5742
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سینگی لگوانا ان لوگوں کے لیے بہترین علاج ہے،
جو گرم علاقوں کے باسی ہیں اور ان کا خون پتلا اور جسم کے ظاہری حصہ کی طرف مائل ہو کر خارجی حرارت کو جذب کرتا ہے،
لیکن جن لوگوں کے بدن میں حرارت کم ہوتی ہے اور وہ کمزور ہوتے ہیں،
ان کے لیے یہ علاج مناسب نہیں ہے۔
(فتح الباري،
ج 10 باب الجامة من الداء)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5742]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5697
5697. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے مقنع بن سنان کی عیادت کی، پھر ان سے فرمایا: جب تک تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہاں بیٹھا رہوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: یقیناً اس میں شفا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5697]
حدیث حاشیہ:
ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ارشاد پر آمنا و صدقنا کہا جائے اور بلا چوں وچرا اسے تسلیم کر لیا جائے اس لیے کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور وہ بالکل سچ ہے پچھنا لگوانے میں شفا ہونا ایسی حقیقت ہے جسے آج کی ڈاکٹری وحکمت نے بھی تسلیم کیا ہے کیونکہ اس سے فاسد خون نکل کر صالح خون جگہ لے لیتا ہے جو صحت کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہے۔
صدق اللہ و رسوله۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5697]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5697
5697. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے مقنع بن سنان کی عیادت کی، پھر ان سے فرمایا: جب تک تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہاں بیٹھا رہوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: یقیناً اس میں شفا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5697]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بلا چون و چرا تسلیم کیا جائے کیونکہ آپ کا فرمان وحی الٰہی سے ہوتا ہے۔
سینگی لگوانے میں شفا کا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے آج طب جدید نے بھی تسلیم کیا ہے۔
مغربی ممالک کے بہت سے ہسپتالوں میں اس کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ قائم ہے۔
(2)
سینگی لگوانے سے فاسد خون نکل کر اس کی جگہ اچھا خون آ جاتا ہے جو تندرستی اور صحت کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہے لیکن اس کے لیے کسی ماہر فن اور تجربہ کار کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے۔
ناتجربہ کار سے سینگی لگوانا نقصان کا باعث ہے جیسا کہ آئندہ حدیث کے فوائد سے معلوم ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5697]

Sahih Muslim Hadith 5742 in Urdu