🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2229 ترقیم شاملہ: -- 5819
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَقَالَ عَبد: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ، قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ، وَيَزِيدُونَ ".
صالح نے ابن شہاب سے، روایت کی: کہا مجھے علی بن حسین نے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ لوگ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ ایک ستارے سے کسی چیز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ روشن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:جب جاہلیت میں اس طرح ستارے سے نشانہ لگایا جاتا تھا تو تم لوگ کیا کہا کرتے تھے؟لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ہم یہی کہا کرتے تھے کہ آج رات کسی عظیم انسان کی ولادت ہوئی ہے اور کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے کسی کی زندگی یا موت کی بنا پر نشانے کی طرف نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ ہمارا رب، اس کا نام برکت والا اور اونچا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش (زور سے) تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح کا ورد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ تسبیح کا ورد (دنیا کے) اس آسمان تک پہنچ جاتا ہے، پھر حاملین عرش کے قریب کے فرشتے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے کیا فرمایا پھر (مختلف) آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ خبر دنیا کے اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن بھی جلدی سے اس کی کچھ سماعت اچکتے ہیں اور اپنے دوستوں (کاہنوں) تک چھینکتے ہیں (اس خبر کو پہنچا دیتے ہیں) اور وہ صحیح طور پر لاتے ہیں وہ سچ تو ہوتی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے اور اضافہ کردیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5819]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی نے بتلایا، اس اثناء میں کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک ستارہ پھینکا گیا اور اس کی روشنی پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جاہلیت کے دور میں اس طرح ستارہ ٹوٹتا تو تم کیا کہتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اصل حقیقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم ہے، ہم کہتے تھے: آج رات کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے اور ایک عظیم آدمی فوت ہوا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعہ یہ ہے، اسے کسی کی موت یا کسی کی زندگی کے لیے نہیں پھینکا جاتا، یعنی کسی کی موت و حیات پر ستارہ نہیں ٹوٹتا، لیکن ہمارا برکت والا رب، جس کا نام بلند و بالا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہتے ہیں، پھر ان کے قریبی آسمان والے تسبیح پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ یہ تسبیح اس قریبی آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے، پھر حاملینِ عرش سے قریب والے فرشتے ان حاملینِ عرش سے دریافت کرتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ تو وہ انہیں جو اس نے فرمایا ہوتا ہے، اس سے آگاہ کرتے ہیں۔ تو آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، حتیٰ کہ خبر اس قریبی آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن چوری چھپے بات اچکتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں کی طرف پھینکتے ہیں اور انہیں ستارے پڑتے ہیں تو جو وہ صحیح صورت میں بتاتے ہیں، وہ حق ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5819]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي زين العابدين ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← علي زين العابدين
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد بن حميد الكشي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5819
ماذا كنتم تقولون في الجاهلية إذا رمي بمثل هذا قالوا الله ورسوله أعلم كنا نقول ولد الليلة رجل عظيم ومات رجل عظيم فقال رسول الله فإنها لا يرمى بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك و اسمه إذا قضى أمرا سبح حملة العرش ثم سبح أهل السماء الذين يلونهم حتى يبلغ
جامع الترمذي
3224
ما كنتم تقولون لمثل هذا في الجاهلية إذا رأيتموه قالوا كنا نقول يموت عظيم أو يولد عظيم فقال رسول الله فإنه لا يرمى به لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا إذا قضى أمرا سبح له حملة العرش ثم سبح أهل السماء الذين يلونهم ثم الذين يلونهم حتى يبلغ التسبيح إلى هذه السما
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5819 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5819
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
رُمِيَ بِنَجْمٍ:
ستارہ ٹوٹتا محسوس ہوا ہے،
گویا ستارہ مارا گیا ہے۔
(2)
سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ:
حاملین عرش سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور اللہ کے حکم وفیصلے کو عیب ونقص سے مبرا مانتے ہوئے تسبیح کہتے ہیں۔
(3)
يُرْمَوْنَ بِهِ:
اجرام فلکیہ یا آسمانی کواکب کے چھوٹے چھوٹے اجزاء شہاب ثاقب ہیں اور ان سے پھوٹنے والی روشنی،
جو ان کی تیز رفتاری اور فضائی مادہ کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے۔
اس سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے۔
(4)
يَقْرِفُونَ:
وہ ملاوٹ یا آمیزش کرتے ہیں اور اگر یرقون ہوتو معنی ہوگا بڑھا چڑھا کے پیش کرتے ہیں،
اس طرح اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں،
گویا يزيدون اس کی تفسیر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5819]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3224
سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3224]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث سابقہ آیت ہی کی تفسیرمیں ذکر کی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3224]

Sahih Muslim Hadith 5819 in Urdu