صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب تَحْرِيمِ الْكِهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 5813
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قال: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: " فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ "، قَال، قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں نے حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کچھ کام ایسے تھے جو ہم زمانۂ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم کاہنوں کے پاس نہ جائیں۔“میں نے عرض کی: ہم بد شگونی لیتے تھے، آپ نے فرمایا:”یہ (بد شگونی) محض ایک خیال ہے جو کوئی انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، یہ تمہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5813]
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بہت سے کام ہیں، جو ہم جاہلیت کے دور میں کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو کاہنوں کے پاس مت جاؤ“ میں نے کہا، ہم بدشگونی لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کا تمہارے کسی کے دل میں وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو وہ تمہیں تمہارے کام سے ہرگز نہ روکے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 5814
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ.
عقیل، معمر، ابن ابی ذئب اور مالک، ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی، مگر مالک نے اپنی حدیث میں بد شگونی کا نام لیا ہے، اس میں کاہنوں کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5814]
امام مسلم اپنے مختلف اساتذہ کی چار سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ان میں امام مالک کی روایت میں، بری فال کا ذکر ہے لیکن کہانت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 5815
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِير ٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَة، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ.
حجاج صواف اور اوزاعی، دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری کی ابوسلمہ سے اور ان کی معاویہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے، کہا: میں نے عرض کی: ہم میں ایسے لوگ ہیں جو (مستقبل کا حال بتانے کے لیے) لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچتے تھے، جو ان کی لکیروں سے موافقت کر گیا تو وہ ٹھیک ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5815]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا، ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچتے تھے تو جو ان کے طریقہ کے مطابق لکیرین کھینچے گا وہ ٹھیک ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2228 ترقیم شاملہ: -- 5816
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْكُهَّانَ كَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْءِ، فَنَجِدُهُ حَقًّا، قَالَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ الْحَقُّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کاہن کسی چیز کے بارے میں جو ہمیں بتایا کرتے تھے (ان میں سے کچھ) ہم درست پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ سچی بات ہوتی ہے جسے کوئی جن اچک لیتا ہے اور وہ اس کو اپنے دوست (کاہن) کے کان میں پھونک دیتا ہے اور اس ایک سچ میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5816]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کاہن ہمیں بعض باتیں بتاتے تھے تو ہم ان کو درست پاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سچا بول، جن (فرشتوں سے) اچک لیتا تھا اور وہ اسے اپنے (کاہن) دوست کے کان میں ڈال دیتا اور وہ اس میں سو جھوت ملا دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2228 ترقیم شاملہ: -- 5817
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَي بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسُوا بِشَيْءٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".
معقل بن عبید اللہ نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتایا کہ انہوں نے عروہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ کچھ نہیں ہیں۔“صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! وہ لوگ بعض اوقات ایسی چیز بتاتے ہیں جو سچ نکلتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ جنوں کی بات ہوتی ہے، ایک جن اسے (آسمان کے نیچے سے) اچک لیتا تھا پھر وہ اسے اپنے دوست (کاہن) کے کان میں مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹکٹاتا رہتا ہے۔ اور وہ اس (ایک) بات میں سو زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5817]
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔" لوگوں نے کہا، اے اللہ کے رسول! وہ بعض اوقات سچ بات بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ جن سے حاصل کردہ بول ہوتا ہے، جن اسے اچک لیتا ہے اور اسے اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے، جس طرح مرغ، قرقر کر کے مرغیوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس میں سو سے زائد جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5817]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2228 ترقیم شاملہ: -- 5818
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ابن جریج نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ معقل کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5818]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے سناتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5818]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2229 ترقیم شاملہ: -- 5819
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَقَالَ عَبد: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ، قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ، وَيَزِيدُونَ ".
صالح نے ابن شہاب سے، روایت کی: کہا مجھے علی بن حسین نے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ لوگ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ ایک ستارے سے کسی چیز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ روشن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:”جب جاہلیت میں اس طرح ستارے سے نشانہ لگایا جاتا تھا تو تم لوگ کیا کہا کرتے تھے؟“لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ہم یہی کہا کرتے تھے کہ آج رات کسی عظیم انسان کی ولادت ہوئی ہے اور کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اسے کسی کی زندگی یا موت کی بنا پر نشانے کی طرف نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ ہمارا رب، اس کا نام برکت والا اور اونچا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش (زور سے) تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح کا ورد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ تسبیح کا ورد (دنیا کے) اس آسمان تک پہنچ جاتا ہے، پھر حاملین عرش کے قریب کے فرشتے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے کیا فرمایا پھر (مختلف) آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ خبر دنیا کے اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن بھی جلدی سے اس کی کچھ سماعت اچکتے ہیں اور اپنے دوستوں (کاہنوں) تک چھینکتے ہیں (اس خبر کو پہنچا دیتے ہیں) اور وہ صحیح طور پر لاتے ہیں وہ سچ تو ہوتی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے اور اضافہ کردیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5819]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی نے بتلایا، اس اثناء میں کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک ستارہ پھینکا گیا اور اس کی روشنی پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جاہلیت کے دور میں اس طرح تارہ ٹوٹتا تو تم کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا، اصل حقیقت اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، ہم کہتے تھے، آج رات کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے اور ایک عظیم آدمی فوت ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعہ یہ ہے، اسے کسی کی موت یا کسی کی زندگی کے لیے نہیں پھینکا جاتا، یعنی کسی کی موت و حیات پر ستارہ نہیں ٹوٹتا، لیکن ہمارا برکت والا رب، جس کا نام بلند و بالا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے قریشی آسمان والے تسبیح پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ یہ تسبیح اس قریبی آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے، پھر حاملین عرش سے قریب والے فرشتے ان حاملین عرش سے دریافت کرتے ہیں، تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ تو وہ انہیں جو اس نے فرمایا ہوتا ہے، اس سے آگاہ کرتے ہیں۔ تو آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، حتیٰ کہ خبر اس قریبی آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن چوری چھپے بات اچکتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں کی طرف پھینکتے ہیں اور انہیں ستارے پڑتے ہیں تو جو وہ صحیح صورت میں بتاتے ہیں، وہ حق ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5819]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2229 ترقیم شاملہ: -- 5820
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ، قال: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّهُ: حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: الْحَقَّ، وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
اوزاعی، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر یونس نے کہا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور بڑھاتے ہیں۔“اور یونس کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اونچا لے جاتے ہیں (مبالغہ کرتے ہیں) اور بڑھاتے ہیں۔“یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں حق کہا۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5820]
امام صاحب یہی روایت اپنے اساتذہ کی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں، اوزاعی کی روایت ہے، ”لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ یونس کی حدیث ہے، ”لیکن وہ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اور اضافہ کرتے ہیں۔“ اور یونس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے، وہ پوچھتے ہیں، تمہارے رب نے کیا کہا، وہ کہتے ہیں، جو کہا ٹھیک کہا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2230 ترقیم شاملہ: -- 5821
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ".
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ) صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”جو شخص کسی غیب کی خبریں سنانے والے کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5821]
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عَرَّاف کے پاس جا کر، اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے، اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5821]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة