الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب كراهة قول الإنسان خبثت نفسي:
باب: یہ کہنا کہ میرا نفس پلیدہ ہو گیا، مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2250 ترقیم شاملہ: -- 5878
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي "، هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَكِنْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی۔ ابوکریب محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی۔ ان دونوں (سفیان اور ابواسامہ) نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: میرا جی (نفس، اپنا آپ) گندا ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہے: میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے۔“یہ ابوکریب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور ”لیکن“ کا لفظ نہیں کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5878]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک نہ کہے، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، لیکن یوں کہے میرا نفس خراب ہو گیا ہے۔“ ابوبکر کی حدیث میں لكن کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6179
| لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي |
صحيح مسلم |
5878
| لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي |
سنن أبي داود |
4979
| لا يقولن أحدكم جاشت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي |
مسندالحميدي |
264
| لا يقولن أحدكم إني خبيث النفس ولكن ليقل إني لقس النفس |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5878 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5878
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خبث اور لقس:
دونوں ایک معنی میں آ جاتے ہیں،
یعنی جی کا بھرجانا،
نفس کا متلانا،
کسی چیز کی طرف مائل ہونا،
لیکن خبث کے لفظ میں عموم زیادہ ہے،
اس لیے اس کا معنی پلید اور ناپاک ہونا،
ردی اور نکما ہونا بھی ہے،
اس لیے آپ نے اس لفظ کے استعمال کو متعین اور تشخص کے ساتھ پسند نہیں کیا،
کیونکہ آپ الفاظ کی شائستگی کو بھی ملحوظ رکھتے تھے،
لیکن اگر یہ غیر معین شخص کے لیے،
اجمالی انداز میں بلاتعیین استعمال کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے،
اس لیے آپ نے اس انسان کے بارے میں جو صبح کی نماز کے وقت سویا رہتا ہے،
فرمایا،
أصبح خبيث النفس:
وہ صبح اس حالت میں کرتا ہے کہ اس کا نفس پریشان اور پراگندہ ہوتا ہے۔
اس طرح اس حدیث کا تعلق الفاظ میں شائستگی کو ملحوظ رکھنے سے ہے۔
مفردات الحدیث:
خبث اور لقس:
دونوں ایک معنی میں آ جاتے ہیں،
یعنی جی کا بھرجانا،
نفس کا متلانا،
کسی چیز کی طرف مائل ہونا،
لیکن خبث کے لفظ میں عموم زیادہ ہے،
اس لیے اس کا معنی پلید اور ناپاک ہونا،
ردی اور نکما ہونا بھی ہے،
اس لیے آپ نے اس لفظ کے استعمال کو متعین اور تشخص کے ساتھ پسند نہیں کیا،
کیونکہ آپ الفاظ کی شائستگی کو بھی ملحوظ رکھتے تھے،
لیکن اگر یہ غیر معین شخص کے لیے،
اجمالی انداز میں بلاتعیین استعمال کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے،
اس لیے آپ نے اس انسان کے بارے میں جو صبح کی نماز کے وقت سویا رہتا ہے،
فرمایا،
أصبح خبيث النفس:
وہ صبح اس حالت میں کرتا ہے کہ اس کا نفس پریشان اور پراگندہ ہوتا ہے۔
اس طرح اس حدیث کا تعلق الفاظ میں شائستگی کو ملحوظ رکھنے سے ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5878]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4979
میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا“ بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4979]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا“ بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4979]
فوائد ومسائل:
اسلام نےاپنے ماننے والوں کے عقائدو اعمال میں پاکیزگی پیدا کرنے کے ساتھ ان کی زبان وبیان کے اسلوب و محاورات کو بھی پاکیزہ بنایاہے۔
ارشاد الہی ہے: (بئس الاسم الفسوق بعد الايمان)(الحجرات: ١١) ايمان لے آنے کے بعدفسق کا نام بہت برا ہے۔
اسلام نےاپنے ماننے والوں کے عقائدو اعمال میں پاکیزگی پیدا کرنے کے ساتھ ان کی زبان وبیان کے اسلوب و محاورات کو بھی پاکیزہ بنایاہے۔
ارشاد الہی ہے: (بئس الاسم الفسوق بعد الايمان)(الحجرات: ١١) ايمان لے آنے کے بعدفسق کا نام بہت برا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:264
فائدہ:
معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے جو اس کی عزت کے منافی نہ ہوں۔ لفظ خبیث اور لفظ نفس کا ظاہری مفہوم ایک ہی ہے لیکن لفظ خبیث اور اس کا ظاہری معنی انسانی وقار کے خلاف تھے اس لیے اپنے لیے یہ لفظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ (فتح الباری: 692/10)
معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے جو اس کی عزت کے منافی نہ ہوں۔ لفظ خبیث اور لفظ نفس کا ظاہری مفہوم ایک ہی ہے لیکن لفظ خبیث اور اس کا ظاہری معنی انسانی وقار کے خلاف تھے اس لیے اپنے لیے یہ لفظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ (فتح الباری: 692/10)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 264]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق