الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب حكم إطلاق لفظة العبد والامة والمولى والسيد:
باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2249 ترقیم شاملہ: -- 5877
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں (ایک یہ) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (اپنے غلام یا کنیز سے) یہ نہ کہے: اپنے رب (پالنہار) کو پلاؤ، اپنے رب کو کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ۔“اور فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولا کہے۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، البتہ یوں کہے: میرا خادم، جوان، میری خادمہ، میرا لڑکا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5877]
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی ہمام بن منبہ کو سنائی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ نہ کہو، اپنے رب کو پلا، اپنے رب کو کھلا، اپنے رب کو وضو کرا اور نہ یہ کہو میرا رب، اور یوں کہو میرا سید، میرا مولیٰ اور یہ نہ کہو میرا عبد، میری امہ (لونڈی) اور یوں کہو، میرا نوکر، میرا خادم، میرا غلام۔" [صحيح مسلم/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 5877]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2552
| لا يقل أحدكم أطعم ربك وضئ ربك اسق ربك وليقل سيدي مولاي ولا يقل أحدكم عبدي أمتي وليقل فتاي وفتاتي وغلامي |
صحيح مسلم |
5877
| لا يقل أحدكم اسق ربك أطعم ربك وضئ ربك ولا يقل أحدكم ربي وليقل سيدي مولاي ولا يقل أحدكم عبدي أمتي وليقل فتاي فتاتي غلامي |
صحيح مسلم |
5874
| لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي كلكم عبيد الله وكل نسائكم إماء الله ولكن ليقل غلامي وجاريتي وفتاي وفتاتي |
صحيح مسلم |
5875
| لا يقولن أحدكم عبدي فكلكم عبيد الله ولكن ليقل فتاي ولا يقل العبد ربي ولكن ليقل سيدي |
سنن أبي داود |
4975
| لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي ولا يقولن المملوك ربي وربتي وليقل المالك فتاي وفتاتي وليقل المملوك سيدي وسيدتي فإنكم المملوكون والرب الله |
صحيفة همام بن منبه |
85
| لا يقل أحدكم اسق ربك أو أطعم ربك وضئ ربك ولا يقل أحدكم ربي وليقل سيدي ومولاي ولا يقل أحدكم عبدي أمتي وليقل فتاي فتاتي غلامي |
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي