علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم وصفاته:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2299 ترقیم شاملہ: -- 5984
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ، وَأَذْرُحَ ".
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے آگے (جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو) حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح (شام اور فلسطین کے دو مقام) کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5984]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارےآگے حوض ہے، اس کے دونوں کناروں کا فاصلہ، اتنا ہے، جتنا جرباء اور اذرح کا فاصلہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2299
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل الفضيل بن الحسين الجحدري ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ← الفضيل بن الحسين الجحدري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6577
| أمامكم حوض كما بين جرباء وأذرح |
صحيح مسلم |
5984
| أمامكم حوضا ما بين ناحيتيه كما بين جرباء وأذرح |
صحيح مسلم |
5985
| أمامكم حوضا كما بين جرباء وأذرح |
صحيح مسلم |
5988
| أمامكم حوضا كما بين جرباء وأذرح فيه أباريق كنجوم السماء من ورده فشرب منه لم يظمأ بعدها أبدا |
سنن أبي داود |
4745
| أمامكم حوضا ما بين ناحيتيه كما بين جرباء وأذرح |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5984 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5984
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
علامہ ضیاء الدین المقدسی کا موقف یہ ہے کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے،
عرضُه مثل ما بينكم و بين جرباء اذرح،
اس کا عرض تمہارے یعنی اہل مدینہ کے جرباء،
ازرح کے درمیان فاصلہ کے برابر ہے،
اس لیے حدیث میں ہو گا،
كما بين مقامی و بين جرباء اذرح:
جتنا فاصلہ میرے کھڑے ہونے کی جگہ اور جربا و اذرح کے درمیان ہے اور سنن دارقطنی کی روایت ہے،
ما بين المدنة و جرباء و اذرح،
(فتح الباري ج 11 ص 472،
مکتبة دار المعرفة)
فوائد ومسائل:
علامہ ضیاء الدین المقدسی کا موقف یہ ہے کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے،
عرضُه مثل ما بينكم و بين جرباء اذرح،
اس کا عرض تمہارے یعنی اہل مدینہ کے جرباء،
ازرح کے درمیان فاصلہ کے برابر ہے،
اس لیے حدیث میں ہو گا،
كما بين مقامی و بين جرباء اذرح:
جتنا فاصلہ میرے کھڑے ہونے کی جگہ اور جربا و اذرح کے درمیان ہے اور سنن دارقطنی کی روایت ہے،
ما بين المدنة و جرباء و اذرح،
(فتح الباري ج 11 ص 472،
مکتبة دار المعرفة)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5984]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6577
6577. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہوگا۔ وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6577]
حدیث حاشیہ:
جرباء اور اذرجاء شام کے ملک میں دو گاؤں ہیں جن میں تین دن کی راہ ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
جرباء اور اذرجاء شام کے ملک میں دو گاؤں ہیں جن میں تین دن کی راہ ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6577]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6577
6577. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہوگا۔ وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6577]
حدیث حاشیہ:
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6577]
Sahih Muslim Hadith 5984 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي