علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب فى الحوض:
باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6577
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمَامَكُمْ حَوْضٌ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ، وَأَذْرُحَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہو گا وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرحاء کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6577
| أمامكم حوض كما بين جرباء وأذرح |
صحيح مسلم |
5984
| أمامكم حوضا ما بين ناحيتيه كما بين جرباء وأذرح |
صحيح مسلم |
5985
| أمامكم حوضا كما بين جرباء وأذرح |
صحيح مسلم |
5988
| أمامكم حوضا كما بين جرباء وأذرح فيه أباريق كنجوم السماء من ورده فشرب منه لم يظمأ بعدها أبدا |
سنن أبي داود |
4745
| أمامكم حوضا ما بين ناحيتيه كما بين جرباء وأذرح |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6577 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6577
حدیث حاشیہ:
جرباء اور اذرجاء شام کے ملک میں دو گاؤں ہیں جن میں تین دن کی راہ ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
جرباء اور اذرجاء شام کے ملک میں دو گاؤں ہیں جن میں تین دن کی راہ ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6577]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6577
حدیث حاشیہ:
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6577]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5984
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارےآگے حوض ہے، اس کے دونوں کناروں کا فاصلہ، اتنا ہے، جتنا جرباء اور اذرح کا فاصلہ۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5984]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
علامہ ضیاء الدین المقدسی کا موقف یہ ہے کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے،
عرضُه مثل ما بينكم و بين جرباء اذرح،
اس کا عرض تمہارے یعنی اہل مدینہ کے جرباء،
ازرح کے درمیان فاصلہ کے برابر ہے،
اس لیے حدیث میں ہو گا،
كما بين مقامی و بين جرباء اذرح:
جتنا فاصلہ میرے کھڑے ہونے کی جگہ اور جربا و اذرح کے درمیان ہے اور سنن دارقطنی کی روایت ہے،
ما بين المدنة و جرباء و اذرح،
(فتح الباري ج 11 ص 472،
مکتبة دار المعرفة)
فوائد ومسائل:
علامہ ضیاء الدین المقدسی کا موقف یہ ہے کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے،
عرضُه مثل ما بينكم و بين جرباء اذرح،
اس کا عرض تمہارے یعنی اہل مدینہ کے جرباء،
ازرح کے درمیان فاصلہ کے برابر ہے،
اس لیے حدیث میں ہو گا،
كما بين مقامی و بين جرباء اذرح:
جتنا فاصلہ میرے کھڑے ہونے کی جگہ اور جربا و اذرح کے درمیان ہے اور سنن دارقطنی کی روایت ہے،
ما بين المدنة و جرباء و اذرح،
(فتح الباري ج 11 ص 472،
مکتبة دار المعرفة)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5984]
Sahih Bukhari Hadith 6577 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي