صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب توقيره صلى الله عليه وسلم وترك إكثار سؤاله عما لا ضرورة إليه او لا يتعلق به تكليف وما لا يقع ونحو ذلك:
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2358 ترقیم شاملہ: -- 6118
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، وَنَقَّرَ عَنْهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا.
یونس اور معمر دونوں نے اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت کی اور معمر کی حدیث میں مزید بیان ہے: "وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بارے میں کریدا" اور یونس کی حدیث میں کہا: عامر بن سعد (سے روایت ہے) انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6118]
یہی روایت امام صاحب کو دو اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی،معمر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، ”وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کی کرید کی، تفتیش کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2358
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد عبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← عبد بن حميد الكشي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة حافظ | |
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص حرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي | صدوق حسن الحديث |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6118 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6118
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی مسئلہ میں بال کی کھال اتارنا،
بلا ضرورت،
انتہاء پسندی اختیار کرنا،
بسا اوقات،
بطور سزا حلال چیز کی حرمت کا باعث بن جاتا ہے اور اس میں ایسی قیود لگ جاتی ہیں،
جو انسان کے لیے مشقت اور تنگی کا باعث بنتی ہے،
جیسا کہ بنو اسرائیل کے ان لوگوں کے ساتھ ہوا،
جنہوں نے گائے کے بارے میں بلا ضرورت سوال کیے،
حالانکہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کر سکتے تھے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی مسئلہ میں بال کی کھال اتارنا،
بلا ضرورت،
انتہاء پسندی اختیار کرنا،
بسا اوقات،
بطور سزا حلال چیز کی حرمت کا باعث بن جاتا ہے اور اس میں ایسی قیود لگ جاتی ہیں،
جو انسان کے لیے مشقت اور تنگی کا باعث بنتی ہے،
جیسا کہ بنو اسرائیل کے ان لوگوں کے ساتھ ہوا،
جنہوں نے گائے کے بارے میں بلا ضرورت سوال کیے،
حالانکہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کر سکتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6118]
معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري