صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب من فضائل عمر رضي الله تعالى عنه:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2398 ترقیم شاملہ: -- 6204
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مِنْهُمْ "، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: تَفْسِيرُ مُحَدَّثُونَ مُلْهَمُونَ.
ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ فرمایا کرتے تھے: ”تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے بات کی جاتی تھی، اگر ان میں سے کوئی میری امت میں ہے تو عمر بن خطاب انہی میں سے ہے۔“ ابن وہب نے کہا: مُحَدَّثُونَ کا مطلب ہے جن پر الہام کیا جاتا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6204]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے، سو اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان میں داخل ہے۔“ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «مُحَدَّثُونَ» کی تفسیر «مُلْهَمُونَ» ہے (جن کی طرف الہام کیا جاتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2398
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6204
| كان يكون في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فإن عمر بن الخطاب منهم |
جامع الترمذي |
3693
| كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطاب |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6204 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6204
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
محدثون:
(دال کے فتحہ کے ساتھ)
جس کے دل میں کوئی چیز ڈالی جائے یا اس کے دل میں کوئی خیال گزرے تو وہ صحیح ہو،
یعنی وہ راست باز ہو،
صاحب فراست ہو،
اس کی زبان پر حق جاری ہو۔
ان يكن فی امتی:
اگر میری امت میں ہو گا،
اگر پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے تو آپ کی امت میں یقینا ایسے لوگ ہوں گے،
اس لیے یہ جملہ شک و شبہ کے لیے نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
محدثون:
(دال کے فتحہ کے ساتھ)
جس کے دل میں کوئی چیز ڈالی جائے یا اس کے دل میں کوئی خیال گزرے تو وہ صحیح ہو،
یعنی وہ راست باز ہو،
صاحب فراست ہو،
اس کی زبان پر حق جاری ہو۔
ان يكن فی امتی:
اگر میری امت میں ہو گا،
اگر پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے تو آپ کی امت میں یقینا ایسے لوگ ہوں گے،
اس لیے یہ جملہ شک و شبہ کے لیے نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6204]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3693
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3693]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3693]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
محدث اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے،
جبرئیل ؑ وحی لیکر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا،
اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل ودماغ میں ڈال دی جاتی ہے،
اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی (نیز دیکھئے حدیث رقم:3691)
وضاحت:
1؎:
محدث اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے،
جبرئیل ؑ وحی لیکر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا،
اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل ودماغ میں ڈال دی جاتی ہے،
اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی (نیز دیکھئے حدیث رقم:3691)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3693]
Sahih Muslim Hadith 6204 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق