🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في فضل سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه:
باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2414 ترقیم شاملہ: -- 6242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: " لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ ، وَسَعْدٍ "، عَنْ حَدِيثِهِمَا ".
معتمر کے والد سلیمان نے کہا: میں نے حضرت ابوعثمان سے سنا، کہا: ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ (یہ میں) ان دونوں کی بتائی ہوئی بات سے (بیان کر رہا ہوں)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6242]
حضرت ابوعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ان بعض دنوں میں،جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے جنگ لڑی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت طلحہ اور سعد(رضوان اللہ عنھم اجمعین)کے سوا کوئی بھی نہیں رہاتھا،یہ بات انہوں نےخود ابوعثمان کو بتائی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2414
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمد
Newطلحة بن عبيد الله القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← طلحة بن عبيد الله القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
👤←👥حامد بن عمر الثقفي، أبو عبد الرحمن
Newحامد بن عمر الثقفي ← محمد بن عبد الأعلى القيسي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي بكر المقدمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي بكر المقدمي ← حامد بن عمر الثقفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3723
لم يبق مع النبي في بعض تلك الأيام التي قاتل فيهن رسول الله غير طلحة وسعد عن حديثهما
صحيح البخاري
4061
لم يبق مع النبي في بعض تلك الأيام التي يقاتل فيهن غير طلحة وسعد عن حديثهما
صحيح مسلم
6242
لم يبق مع رسول الله في بعض تلك الأيام التي قاتل فيهن رسول الله غير طلحة وسعد
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6242 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6242
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنگ اُحد میں جب تیر اندازوں کی غلطی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی تو آپ کے ہمراہ قریش میں سے صرف حضرت طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما تھے اور سات انصاری تھے،
ساتوں انصاری آپ کی حفاظت کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تو پھر یہ دونوں قریشی ہی رہ گئے اور یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے،
انہوں نے تیر مار مار کر مشرک حملہ آوروں کو دور رکھا اور آپ کی حفاظت کرتے ہوئے ہی،
حضرت طلحہ کا ہاتھ شل ہو گیا اور آپ نے انہیں چلتا ہوا،
شہید قرار دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6242]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3723
3723. حضرت ابوعثمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ بعض ان غزوات کے وقت جن میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شمولیت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ یہ بات خود ان کی بیان کردہ حدیث میں ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3723]
حدیث حاشیہ:

جنگ اُحد کا واقعہ کہ جب مسلمان بھگدڑ میں مبتلا ہوئے تو اس وقت صرف حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی بھی آپ کے ہم رکاب نہ تھا۔
انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی۔

اس حدیث میں حضرت طلحہ ؓ کی منقبت کا بیان ہے کہ آپ کس قدر بہادر اور جفاکش تھے۔
اس کی تفصیل آئندہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے حضرت عثمان ؓ سے پوچھا:
آپ کو اس واقعے کا علم کیسے ہوا؟ توانھوں نے بتایا کہ ان حضرات نے مجھے خود اس سے آگاہ کیا تھا۔
(فتح الباري: 105/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3723]