🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب من فضائل سعد بن معاذ رضي الله عنه:
باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2466 ترقیم شاملہ: -- 6345
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ".
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا، فرمایا: ان کی (موت کی) وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6345]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جبکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ ان کے سامنے رکھا ہوا تھا، فرمایا: ان کی (موت کی) وجہ سے عرشِ الٰہی جھوم گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2466
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3803
اهتز العرش لموت سعد بن معاذ
صحيح مسلم
6346
اهتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ
صحيح مسلم
6345
اهتز لها عرش الرحمن
جامع الترمذي
3848
اهتز له عرش الرحمن
سنن ابن ماجه
158
اهتز عرش الله لموت سعد بن معاذ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6345 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6345
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے جمادات میں بھی کچھ نہ کچھ شعور و احساس رکھا ہے،
اس لیے پتھر بھی اللہ کے خوف و خشیت سے گرتے ہیں اور اگر قرآن مجید پہاڑ پر اتار دیا جاتا تو وہ بھی خشوع و خضوع کی بنا پر ریزہ ریزہ ہو جاتا،
اس طرح حضرت سعد بن معاذ کی روح کے پرواز کرنے پر اس کی آمد پر اظہار مسرت و شادمانی کے لیے عرش الٰہی مسرت سے جھوم اٹھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6345]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث158
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ کی موت کے وقت رحمن کا عرش جھوم اٹھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 158]
اردو حاشہ:
(1)
مومن کی روح جب آسمان پر جاتی ہے تو جہاں جہاں سے گزرتی ہے، سب فرشتے خوش ہوتے ہیں۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب ان کی روح مبارک آسمانوں پر گئی تو عرش الہی کو بھی اس کی آمد پر خوشی ہوئی اور اس میں خوشی کے اظہار کے طور پر حرکت پیدا ہوئی۔

(2)
اللہ کی مخلوق جو انسان کی نظر میں بے جان اور سمجھ بوجھ سے خالی ہے، حقیقت میں ایسے نہیں، بلکہ بے جان مخلوق میں بھی شعور اور احساس ہے لیکن وہ انسان کے حواس سے بالاتر ہے۔

(3)
بعض علماء نے عرش کی خوشی سے مقرب فرشتوں کی خوشی مراد لی ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 158]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3848
سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: اور سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ (اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا): ان کے لیے رحمن کا عرش (بھی خوشی سے) جھوم اٹھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3848]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: ان کے آسمان پر آ جانے کی خوشی میں،
بعض لوگوں نے رحمان کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے مراد لیا ہے کہ وہ سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کے آسمان پر آنے کی خوشی میں جھوم اٹھے،
بہرحال یہ ان کے مقرب بارگاہِ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3848]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3803
3803. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم اٹھا۔ اعمش سے روایت ہے، انہوں نے ابوصالح سے بیان کیا، انہوں نے حضرت جابر ؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت بیان کی۔ ایک شخص نے حضرت جابر ؓ سے کہا کہ حضرت براء ؓ کا بیان ہے کہ جنازے کی چارپائی حرکت میں آئی تھی۔ حضرت جابر ؓ نے کہا: ان دونوں قبیلوں کے درمیان (زمانہ جاہلیت میں) دشمنی تھی۔ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سعد بن معاذ کی موت سے رحمٰن کا عرش جھوم اٹھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3803]
حدیث حاشیہ:
روایت میں اس عداوت اور دشمنی کی طرف اشارہ ہے جو انصار کے دونوں قبیلوں، اوس و خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں تھی، لیکن اسلام کے بعد اس کے اثرات کچھ بھی باقی نہیں رہ گئے تھے، حضرت سعد ؓ قبیلہ اوس کے سردار تھے اور حضرت براء کا تعلق خزرج سے تھا، حضرت جابر ؓ کا مقصد یہ ہے کہ اس پرانی دشمنی کی وجہ سے انہوں نے پوری طرح حدیث نہیں بیان کی، بہر حال عرش رحمان اور سریر ہر دو کے ہلنے کے بارے میں حدیث آئی ہیں اور دونوں صورتوں کی محدثین نے یہ تشریح کی ہے کہ اس میں حضرت سعد بن معاذ ؓ کی موت کو ایک حادثہ عظیم بتایا گیا ہے آپ کے مرتبہ کو گھٹانا کسی کے بھی سامنے نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3803]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3803
3803. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم اٹھا۔ اعمش سے روایت ہے، انہوں نے ابوصالح سے بیان کیا، انہوں نے حضرت جابر ؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت بیان کی۔ ایک شخص نے حضرت جابر ؓ سے کہا کہ حضرت براء ؓ کا بیان ہے کہ جنازے کی چارپائی حرکت میں آئی تھی۔ حضرت جابر ؓ نے کہا: ان دونوں قبیلوں کے درمیان (زمانہ جاہلیت میں) دشمنی تھی۔ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سعد بن معاذ کی موت سے رحمٰن کا عرش جھوم اٹھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3803]
حدیث حاشیہ:

حضرت براء بن عازب ؓ کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ایک بندے کی موت پر اللہ کا عرش کیسے حرکت کر سکتا ہے لہذا اس سے مرادان کی چارپائی ہے۔
انھوں نے یہ بات کسی دشمنی کی بنا پر نہیں کہی تھی بلکہ اپنی سمجھ کے مطابق اس کا اظہار کیا لیکن حضرت جابر ؓ نے سمجھا کہ شاید حضرت براء بن عازب ؓ کسی اور وجہ سے یہ بات کہہ رہے ہیں انھوں نے اس کا ازالہ فرمایا کہ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے حقیقت یہ ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کی موت پر عرش الٰہی ہی حرکت میں آیا تھا اس کے متعلق تاویل کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود یہ الفاظ سنے تھے۔

عرش الٰہی کا حرکت میں آنا خوشی کی بنا پر تھا اور اللہ کے عرش کا خوشی کی وجہ سے حرکت کرنا ممکن ہے جیسا کہ ایک مرتبہ خوشی کی بنا پر احد پہاڑ نے بھی حرکت کی تھی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کچھ پتھر بھی تواللہ کے خوف سے پہاڑوں سے گرپڑتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3803]

Sahih Muslim Hadith 6345 in Urdu