صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب كراهة غمس المتوضئ وغيره يده المشكوك في نجاستها في الإناء قبل غسلها ثلاثا:
باب: تین بار ہاتھ دھونے سے پہلے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 278 ترقیم شاملہ: -- 647
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، كُلُّهُمْ يَقُولُ: حَتَّى يَغْسِلَهَا، وَلَمْ يَقُلْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ: ثَلَاثًا، إِلَّا مَا قَدَّمْنَا مِنْ رِوَايَةِ جَابِرٍ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي رَزِينٍ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ذِكْرَ: الثَّلَاثِ.
اعرج، محمد، علاء کے والد عبدالرحمن بن یعقوب، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض (سب) نے کہا: ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، سبھی نے اپنی اپنی روایت میں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ سبھی کہتے ہیں: ”حتیٰ کہ اس (ہاتھ) کو دھولے۔“ اور ان میں سے کسی نے بھی ”تین بار“ کا لفظ نہیں بولا، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر رضی اللہ عنہما، ابن مسیب، ابوسلمہ، عبداللہ بن شقیق، ابوصالح اور ابورزین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ”تین بار“ کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 278
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 647 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 647
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان سو کر اٹھے،
تو اسے پانی کے برتن میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے،
جبکہ اسے یہ اندیشہ ہو کہ میرا ہاتھ ایسی جگہ لگ سکتا ہے جہاں ہاتھ لگنے کو انسان طبعی طور پر اچھا نہیں سمجھتا اور اگر کسی جگہ حقیقتاً نجاست لگی ہو،
اس کو تو ہرصورت میں تین دفعہ دھونا پڑے گا،
کیونکہ اس جگہ محض اندیشہ اور خطرے کی بنا پر ہاتھ کو تین دفعہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے،
حالانکہ اگرانسان نے پانی سے استنجا کیا ہے،
تو اعضائے مخصوصہ پر کوئی ظاہری نجاست نہیں لگی ہوتی۔
اور ڈھیلے سے صفائی کی صورت میں بھی نجاست کا جرم یا مواد باقی نہیں رہتا،
اس کے باوجود ہاتھ کو تین دفعہ دھونا چاہیے،
اور اس حدیث کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ برتن قلیل پانی والا ہو یا کثیر پانی والا،
بلکہ اس میں سو کر اٹھنے کے بعد پانی کے استعمال کے لیے ایک ادب،
تہذیب کی راہ بتلائی گئی ہے۔
فوائد ومسائل:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان سو کر اٹھے،
تو اسے پانی کے برتن میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے،
جبکہ اسے یہ اندیشہ ہو کہ میرا ہاتھ ایسی جگہ لگ سکتا ہے جہاں ہاتھ لگنے کو انسان طبعی طور پر اچھا نہیں سمجھتا اور اگر کسی جگہ حقیقتاً نجاست لگی ہو،
اس کو تو ہرصورت میں تین دفعہ دھونا پڑے گا،
کیونکہ اس جگہ محض اندیشہ اور خطرے کی بنا پر ہاتھ کو تین دفعہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے،
حالانکہ اگرانسان نے پانی سے استنجا کیا ہے،
تو اعضائے مخصوصہ پر کوئی ظاہری نجاست نہیں لگی ہوتی۔
اور ڈھیلے سے صفائی کی صورت میں بھی نجاست کا جرم یا مواد باقی نہیں رہتا،
اس کے باوجود ہاتھ کو تین دفعہ دھونا چاہیے،
اور اس حدیث کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ برتن قلیل پانی والا ہو یا کثیر پانی والا،
بلکہ اس میں سو کر اٹھنے کے بعد پانی کے استعمال کے لیے ایک ادب،
تہذیب کی راہ بتلائی گئی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 647]
ثابت بن الأحنف ← أبو هريرة الدوسي