🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب النهي عن الاغتسال في الماء الراكد:
باب: ٹھہرے ہوئے پانی کے اندر غسل کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 283 ترقیم شاملہ: -- 658
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا ".
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوسائب نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ (ابوسائب نے) کہا: اے ابوہریرہ! وہ کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ (اس میں سے) پانی لے لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 658]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ساکن ٹھہرے ہوئے پانی میں نہائے جبکہ وہ جنبی ہو۔ ابو سائب رحمہ اللہ نے پوچھا: اے ابو ہریرہ! وہ کیسے نہائے؟ تو انہوں نے جواب دیا، پانی لے کر باہر بیٹھ کر نہائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الله بن السائب الأنصاري، أبو السائب
Newعبد الله بن السائب الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن السائب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن أبي موسى المصري، أبو عبد الله
Newأحمد بن أبي موسى المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← أحمد بن أبي موسى المصري
ثقة
👤←👥هارون بن سعيد السعدي، أبو جعفر
Newهارون بن سعيد السعدي ← أحمد بن عمرو القرشي
ثقة فاضل
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 658 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 658
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث کا تعلق بھی آداب واخلاق سے ہے کہ یہ بات تہذیب وشائستگی جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے کہ منافی ہے کہ انسان ٹھہرے ہوئے پانی کے اندر بیٹھ کر غسل جنابت کرے،
انسان کو اس غرض کے لیے کسی برتن میں الگ پانی لے کر نہانا چاہیے۔
یا اگر برتن نہ ہوتو اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ وہ دوبارہ اسی پانی میں شامل نہ ہو جائے،
ظاہر ہے تھوڑے پانی کے اندر بیٹھ کر کوئی نہیں نہائے گا۔
پانی زیادہ ہو گا تو وہ ایسے نہائے گا،
اس لیے حدیث میں قلیل وکثیر کی قید نہیں لگائی گئی اور پانی کی قلیل وکثیر تعداد کے بارے میں شوافع اور احناف میں بہت اختلاف ہے۔
شوافع نے ایک صحیح حدیث کی بنیاد پر دو بڑے مٹکوں سے کم پانی کو قلیل قرار دیا ہے اور زیادہ کو کثیر،
احناف کے پاس چونکہ اس مسئلہ کے بارے میں صحیح اور صریح روایت نہیں ہے اس لیے ان کا ایک مقدار پر اتفاق نہیں ہے حنابلہ کا مؤقف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ والا ہے،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قلیل وکثیر مقدار کا اعتبار نہیں ہے،
اوصاف ثلاثہ (رنگ،
بو اور ذائقہ)
میں سے کسی ایک کے بدلنے کی صورت میں (نجاست کے گرنے کی صورت میں)
پانی نجس ہو گا،
وگرنہ پلید نہیں محدثین،
شوافع یا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے مؤقف کو ترجیح دیتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 658]