الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب كل شيء بقدر:
باب: ہر ایک چیز تقدیر سے ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2656 ترقیم شاملہ: -- 6752
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ، فَنَزَلَتْ: يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ {48} إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ {49} سورة القمر آية 48-49 ".
محمد بن عباد بن جعفر مخزومی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرنے کے لیے آئے، اس وقت (یہ آیت) نازل ہوئی: ”جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، (کہا جائے گا:) دوزخ کا عذاب چکھو، بے شک ہم نے ہر چیز کو (طے شدہ) مقدار کے مطابق بنایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6752]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریشی مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ سے تقدیر کے مسئلہ پر جھگڑتے تھے، چنانچہ یہ آیات اتریں۔"جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے،(کہا جائے گا)دوزخ کے عذاب سے دو چارہو، بے شک ہم نے ہر چیز کو اندازہ سے بنایا ہے۔"قمرآیت نمبر48۔49) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6752]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2656
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن عباد المخزومي محمد بن عباد المخزومي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥زياد بن إسماعيل القرشي زياد بن إسماعيل القرشي ← محمد بن عباد المخزومي | صدوق سيئ الحفظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← زياد بن إسماعيل القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6752
| جاء مشركو قريش يخاصمون رسول الله في القدر فنزلت يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر |
جامع الترمذي |
3290
| جاء مشركو قريش يخاصمون النبي في القدر فنزلت يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر |
جامع الترمذي |
2157
| جاء مشركو قريش إلى رسول الله يخاصمون في القدر فنزلت هذه الآية يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر |
سنن ابن ماجه |
83
| جاء مشركو قريش يخاصمون النبي في القدر فنزلت هذه الآية يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6752 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6752
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص انداز سے بنائی ہے اور اس نے ہر چیز کے لیے ایک وقت مقررہ،
معین ٹھہرا دیا ہے اور اس کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی غایت اور انتہا کو پہنچ جائے،
قوموں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ اسی اصول کے مطابق ہے،
کوئی قوم سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو فورا نہیں پکڑتا،
بلکہ اس کو اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی خیروشر کی تمام صلاحتیں اجاگر کر سکے،
تاکہ اس پر حجت پوری ہو جائے اور قیامت کے دن کوئی بہانہ نہ پیش کر سکے۔
فوائد ومسائل:
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص انداز سے بنائی ہے اور اس نے ہر چیز کے لیے ایک وقت مقررہ،
معین ٹھہرا دیا ہے اور اس کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی غایت اور انتہا کو پہنچ جائے،
قوموں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ اسی اصول کے مطابق ہے،
کوئی قوم سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو فورا نہیں پکڑتا،
بلکہ اس کو اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی خیروشر کی تمام صلاحتیں اجاگر کر سکے،
تاکہ اس پر حجت پوری ہو جائے اور قیامت کے دن کوئی بہانہ نہ پیش کر سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6752]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث83
قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: ”جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے“ (سورۃ القمر: ۴۹) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 83]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: ”جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے“ (سورۃ القمر: ۴۹) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 83]
اردو حاشہ:
(1)
اس آیت اور حدیث سے بھی تقدیر کا ثبوت ملتا ہے۔
(2)
کفار کے لیے جہنم کا سخت عذاب مقدر ہے۔
(3)
واضح اور قطعی مسئلے میں اختلاف اور بحث کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔
(1)
اس آیت اور حدیث سے بھی تقدیر کا ثبوت ملتا ہے۔
(2)
کفار کے لیے جہنم کا سخت عذاب مقدر ہے۔
(3)
واضح اور قطعی مسئلے میں اختلاف اور بحث کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 83]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2157
تقدیر سے متعلق ایک اور باب۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی ”جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے“ (القمر: ۴۸-۴۹)۔ [سنن ترمذي/كتاب القدر/حدیث: 2157]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی ”جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے“ (القمر: ۴۸-۴۹)۔ [سنن ترمذي/كتاب القدر/حدیث: 2157]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تواُن سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کامزہ چکھو،
ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیداکیا ہے۔
(القمر: 48، 49)
وضاحت:
1؎:
یعنی جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تواُن سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کامزہ چکھو،
ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیداکیا ہے۔
(القمر: 48، 49)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2157]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3290
سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے (اور الجھنے) لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ”یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے“ (القمر: ۴۸)، نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3290]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے (اور الجھنے) لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ”یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے“ (القمر: ۴۸)، نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3290]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں نے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے (القمر: 48)
وضاحت:
1؎:
یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں نے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے (القمر: 48)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3290]
محمد بن عباد المخزومي ← أبو هريرة الدوسي