الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب استحباب الاستغفار والاستكثار منه:
باب: اللہ سے مغفرت مانگنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2703 ترقیم شاملہ: -- 6861
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6861]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جس نے سورج کے مغرب سے طلوع سے پہلے پہلے توبہ کرلی،اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6861]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2703
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6861 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6861
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
توبہ اس وقت تک معتبر اور قبول ہے،
جب تک زندگی کی آس اور امید ہو اور موت آنکھوں کے سامنے نہ آ گئی ہو،
جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا تو یہ اس بات کی علامت ہے،
دنیا ختم ہو گئی ہے،
اس طرح جب انسان پر غرغرہ کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے،
اس کے بعد زندگی کی کوئی آس اور امید باقی نہیں رہتی،
یہ موت کی قطعی اور آخری علامت ہے تو ایسے وقت میں توبہ قبول نہیں ہوتی،
اس لیے بندے کو ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے،
توبہ و استغفار کو لازم پکڑنا چاہیے،
معلوم نہیں کس وقت موت کی گھڑی آ جائے۔
فوائد ومسائل:
توبہ اس وقت تک معتبر اور قبول ہے،
جب تک زندگی کی آس اور امید ہو اور موت آنکھوں کے سامنے نہ آ گئی ہو،
جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا تو یہ اس بات کی علامت ہے،
دنیا ختم ہو گئی ہے،
اس طرح جب انسان پر غرغرہ کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے،
اس کے بعد زندگی کی کوئی آس اور امید باقی نہیں رہتی،
یہ موت کی قطعی اور آخری علامت ہے تو ایسے وقت میں توبہ قبول نہیں ہوتی،
اس لیے بندے کو ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے،
توبہ و استغفار کو لازم پکڑنا چاہیے،
معلوم نہیں کس وقت موت کی گھڑی آ جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6861]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي