صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الدعاء عند النوم
باب: سوتے وقت کی دعا۔
ترقیم عبدالباقی: 2714 ترقیم شاملہ: -- 6892
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ، فَإِنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، وَلْيَقُلْ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ "،
انس بن عیاض نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنا چاہے تو اپنے تہبند کا اندرونی حصہ لے کر اس سے اپنے بستر کو جھاڑے، پھر «بسم اللہ» کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس (کے اٹھ جانے) کے بعد اس کے بستر پر (مخلوقات میں سے) کون آیا؟ پھر جب لیٹنا چاہے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹے اور کہے: «سبحانک اللہم ربي بک وضعت جنبی وبک ارفعہ، ان امسکت نفسي فارحمہا، وان ارسلتہا فاحفظہا بما تحفظ بہ عبادک الصالحین» ”میرے پروردگار! تو (ہر ناشایان بات سے) پاک ہے، میں نے تیرے (حکم) سے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا اور تیرے ہی حکم سے اسے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری روح کو (اپنے پاس) روک لیا تو اس کی مغفرت کر دینا اور اگر تو نے اسے (واپس) بھیج دیا تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6892]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر جگہ پکڑنا چاہے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے کو پکڑ کر، اس سے اپنے بستر کو جھاڑ لے اور اللہ کا نام لے۔ کیونکہ اسے پتا نہیں ہے اس کے بعد اس کے بستر پر کون اس کا جانشین بنا ہے اور جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ دعا پڑھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”اے اللہ! پاک اور منزہ ہے اے میرے رب! تیری توفیق سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیری توفیق سے اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میرے نفس کو روک لے، میری روح قبض کر لے تو اسے معاف فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑ دے (قبض نہ کرے) تو اس کی حفاظت فرمانا جس وسیلہ و قدرت سے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6892]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2714
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6892 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6892
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کو بستر پر جانے سے پہلے اپنے بستر کو جھاڑلینا چاہیے،
کیونکہ ممکن ہے،
اس کی عدم موجودگی میں اس پر کسی موزی جانور نے بسیرا کر لیا ہو،
ظاہر ہے،
یہ اس صورت میں ہے،
جب وہاں اندھیرا اور تاریکی ہو،
لیکن براہ راست ہاتھ سے نہ جھاڑے،
تاکہ اگر کوئی موذی چیز ہو تو وہ اس کو کاٹ نہ لے،
پھر دعا پڑھ کر سوئے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کو بستر پر جانے سے پہلے اپنے بستر کو جھاڑلینا چاہیے،
کیونکہ ممکن ہے،
اس کی عدم موجودگی میں اس پر کسی موزی جانور نے بسیرا کر لیا ہو،
ظاہر ہے،
یہ اس صورت میں ہے،
جب وہاں اندھیرا اور تاریکی ہو،
لیکن براہ راست ہاتھ سے نہ جھاڑے،
تاکہ اگر کوئی موذی چیز ہو تو وہ اس کو کاٹ نہ لے،
پھر دعا پڑھ کر سوئے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6892]
Sahih Muslim Hadith 6892 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي