صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب في البعث والنشور وصفة الارض يوم القيامة:
باب: مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت والے دن زمین کی حالت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2791 ترقیم شاملہ: -- 7056
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَقَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا: «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» ”جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان (بھی بدل دیا جائے گا)“ تو اللہ کے رسول! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7056]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] ”جس دن زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا اور آسمانوں کو بھی“ کے بارے میں سوال کیا کہ تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2791
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7056
| يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات |
جامع الترمذي |
3121
| يوم تبدل الأرض غير الأرض قالت يا رسول الله فأين يكون الناس قال على الصراط |
سنن ابن ماجه |
4279
| سألت رسول الله عن قوله يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7056 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7056
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قیامت اور آخرت کے حالات کی صحیح حقیقت اور کیفیت کو ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے جاننا ممکن نہیں ہے،
اس لیے ان پر اجمالی طور پر ایمان لانا ہی ضروری ہے۔
فوائد ومسائل:
قیامت اور آخرت کے حالات کی صحیح حقیقت اور کیفیت کو ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے جاننا ممکن نہیں ہے،
اس لیے ان پر اجمالی طور پر ایمان لانا ہی ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7056]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4279
حشر کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» ”جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے“ (سورة إبراهيم: 48) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4279]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» ”جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے“ (سورة إبراهيم: 48) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4279]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پل صراط بھی قیامت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔
(2)
یہ پل جہنم پر ہوگا اور سب انسان اس پر سے گزریں گے نیک مومن اس پر سے آسانی سے گزرجایئں گے۔
زیادہ گناہ گار مومن اور سب کافر جہنم میں گر جایئں گئے۔
اس کے بعد گناہ گار مومن نبیوں اور نیک آدمیوں کی شفاعت کے ساتھ جہنم سے نکل آیئں گے۔
کم گناہ کرنے والے پہلے نکلیں گے دوسرے بعد میں۔
آخر میں صرف کافر جہنم میں رہ جائیں گے۔
فوائد و مسائل:
(1)
پل صراط بھی قیامت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔
(2)
یہ پل جہنم پر ہوگا اور سب انسان اس پر سے گزریں گے نیک مومن اس پر سے آسانی سے گزرجایئں گے۔
زیادہ گناہ گار مومن اور سب کافر جہنم میں گر جایئں گئے۔
اس کے بعد گناہ گار مومن نبیوں اور نیک آدمیوں کی شفاعت کے ساتھ جہنم سے نکل آیئں گے۔
کم گناہ کرنے والے پہلے نکلیں گے دوسرے بعد میں۔
آخر میں صرف کافر جہنم میں رہ جائیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4279]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3121
سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3121]
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3121]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: 48)
وضاحت:
1؎:
جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: 48)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3121]
Sahih Muslim Hadith 7056 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق