سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : ذكر البعث
باب: حشر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4279
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عن قَوْلةِ: يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48، سورة إبراهيم آية 48 فَأَيْنَ تَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" عَلَى الصِّرَاطِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» ”جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے“ (سورة إبراهيم: 48) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4279]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] ”جس دن یہ زمین کسی اور زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی“، اس وقت انسان کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صفة القیامة 2 (2791)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 15 (3121)، (تحفة الأشراف: 17617)، وقد أخرجہ: مسند احمد6/35)، سنن الدارمی/الرقاق 88 (2851) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7056
| يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات |
جامع الترمذي |
3121
| يوم تبدل الأرض غير الأرض قالت يا رسول الله فأين يكون الناس قال على الصراط |
سنن ابن ماجه |
4279
| سألت رسول الله عن قوله يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4279 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4279
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پل صراط بھی قیامت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔
(2)
یہ پل جہنم پر ہوگا اور سب انسان اس پر سے گزریں گے نیک مومن اس پر سے آسانی سے گزرجایئں گے۔
زیادہ گناہ گار مومن اور سب کافر جہنم میں گر جایئں گئے۔
اس کے بعد گناہ گار مومن نبیوں اور نیک آدمیوں کی شفاعت کے ساتھ جہنم سے نکل آیئں گے۔
کم گناہ کرنے والے پہلے نکلیں گے دوسرے بعد میں۔
آخر میں صرف کافر جہنم میں رہ جائیں گے۔
فوائد و مسائل:
(1)
پل صراط بھی قیامت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔
(2)
یہ پل جہنم پر ہوگا اور سب انسان اس پر سے گزریں گے نیک مومن اس پر سے آسانی سے گزرجایئں گے۔
زیادہ گناہ گار مومن اور سب کافر جہنم میں گر جایئں گئے۔
اس کے بعد گناہ گار مومن نبیوں اور نیک آدمیوں کی شفاعت کے ساتھ جہنم سے نکل آیئں گے۔
کم گناہ کرنے والے پہلے نکلیں گے دوسرے بعد میں۔
آخر میں صرف کافر جہنم میں رہ جائیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4279]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3121
سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3121]
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3121]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: 48)
وضاحت:
1؎:
جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: 48)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3121]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7056
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا،"جس دن زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا اور آسمانوں کو بھی۔"ابراہیم نمبر48تو اس وقت لوگ کہا ں ہوں گے؟ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا:" پل صراط پر۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7056]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قیامت اور آخرت کے حالات کی صحیح حقیقت اور کیفیت کو ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے جاننا ممکن نہیں ہے،
اس لیے ان پر اجمالی طور پر ایمان لانا ہی ضروری ہے۔
فوائد ومسائل:
قیامت اور آخرت کے حالات کی صحیح حقیقت اور کیفیت کو ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے جاننا ممکن نہیں ہے،
اس لیے ان پر اجمالی طور پر ایمان لانا ہی ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7056]
Sunan Ibn Majah Hadith 4279 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق