صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 2846 ترقیم شاملہ: -- 7173
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحَاجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمْ مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ "،
ورقاء نے مجھے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت نے باہم (اپنی اپنی برتری کے) دلائل دیے، دوزخ نے کہا: مجھے جبر و تکبر کرنے والوں (کا ٹھکانہ ہونے) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میرے اندر کمزور، خاک نشین، اور عاجز و لاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا تمھارے ذریعے سے عذاب دوں گا اور تم دونوں کے لیے اتنی (مخلوق) ہے جس سے تم بھر جاؤ۔ رہی دوزخ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی، چنانچہ وہ (اللہ) اس کے اوپر اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7173]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت میں جھگڑا ہوا تو آگ نے کہا: مجھے متکبروں اور سرکشوں کے لیے ترجیح دی گئی ہے اور جنت نے کہا: تو مجھے کیا ہوا ہے، مجھ میں صرف کمزور، کم مرتبہ اور بے بس لوگ داخل ہوں گے؟ تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور آگ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک بھر دیا جائے گا، لیکن آگ پُر نہیں ہو گی تو اللہ اس پر اپنا قدم رکھے گا تو وہ پکار اٹھے گی: بس، بس! تب وہ بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض کی طرف سکڑے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2846
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 7173 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي