🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب عرض مقعد الميت من الجنة او النار عليه وإثبات عذاب القبر والتعوذ منه:
باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2867 ترقیم شاملہ: -- 7213
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: كَذَا كَانَ، يَقُولُ: الْجُرَيْرِيُّ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ؟، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ".
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ابونضرہ نے) کہا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہو کر نہیں سنی، بلکہ مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں، آپ نے فرمایا: یہ لوگ کب مرے تھے؟ اس نے کہا: شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں) کو میں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب النار﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب القبر﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمام) فتنوں سے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من الفتن ما ظهر منها وما بطن﴾ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من فتنة الدجال﴾ ۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7213]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی،بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی، انھوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے،ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟"ایک آدمی نے کہا: میں،آپ نے فرمایا:"یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا:شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں)کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے۔"پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا:"آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "(تمام) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2867
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← زيد بن ثابت الأنصاري
صحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة حجة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥يحيى بن أيوب المقابري، أبو زكريا
Newيحيى بن أيوب المقابري ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7213
تعوذوا بالله من عذاب النار
مشكوة المصابيح
129
تعوذوا بالله من عذاب النار
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7213 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7213
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے برزخ کے عذاب کو جن و انس سے مخفی رکھا ہے،
ان کو اس کا پتا بالکل نہیں چلتا،
لیکن ان کے علاوہ دوسری مخلوقات کو اس کا کچھ ادراک و احساس ہو جاتا ہے،
بنو نجار کے باغ میں جن لوگوں کی قبریں تھیں،
ان پر عذاب ہو رہاتھا،
آپ جس خچر پر سوار تھے،
اس کو اس کا احساس ہوا اور اس پر اثر پڑا لیکن آپ کے اصحاب ورفقاء کو اس کا کوئی احساس نہیں ہوا اور آپ اس عذاب کو سن رہے تھے،
اس لیے آپ نے ساتھیوں کو فرمایا،
''قبر کے عذاب کی جو کیفیت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر منکشف فرمادی ہے،
اگر اللہ تعالیٰ وہ کیفیت تم پر منکشف کردے اور تمہیں بھی مردوں کی چیخ و پکار سنادے تو اس کا خطرہ ہے کہ تمہیں موت سے اتنی وحشت ہوجائے کہ تم ان کو دفن بھی نہ کرسکو،
اس لیے میں اللہ سے یہ دعا نہیں کرتا کہ وہ تمہیں بھی سنا دے،
حقیقت یہ ہے کہ مرنے والوں پر مرنے کے بعد جو کچھ گزرتا ہے،
اگر ہم سب اس کو دیکھ لیں یا سن لیں تو ہم کوئی کام کاج نہ کرسکیں اور دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے،
اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کی طرف متوجہ فرمایا،
جن سے بچنے کی ہمیں فکر کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں دوزخ کے عذاب،
قبر کے عذاب اور ہر قسم کے ظاہری و باطنی کھلے اور پوشیدہ فتنوں سے پناہ دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7213]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 129
عذاب قبر کا اثبات
«. . . ‏‏‏‏عَن زيد بن ثَابت قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرُ سِتَّةٍ أَو خَمْسَة أَو أَرْبَعَة قَالَ كَذَا كَانَ يَقُول الْجريرِي فَقَالَ: «من يعرف أَصْحَاب هَذِه الأقبر فَقَالَ رجل أَنا قَالَ فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاك فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَاب النَّار فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّه من عَذَاب الْقَبْر قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ . . .»
. . . سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہ بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے اور ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ خچر بگڑ گئی اور ایسی بدکی، قریب تھا کہ آپ کو گرا د ے ناگہاں اس جگہ پانچ یا چھ قبریں معلوم ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ ان قبر والوں کو تم میں سے کوئی پہچانتا ہے؟ ایک شخص نے جواب دیا: جی ہاں حضرت میں جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کس حال میں مرے تھے؟ یعنی شرک کی حالت میں مرے تھے یا ایمان کی حالت میں مرے تھے۔ اس نے کہا: شرک کی حالت میں مرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ امت اپنے قبروں میں آزمائی جاتی ہے اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ تم مردوں کو قبروں میں دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ جو عذاب قبر میں سن رہا ہوں وہ تم کو بھی سنا دے (اور اگر اس عذاب کو تم سن لو تو مردوں کو قبروں میں دفن کرنا ہی چھوڑ دو گے اس لیے میں تمہارے سنانے کے لیے دعا نہیں کرتا) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تم لوگ آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو یعنی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تم کو دوزخ کے عذاب سے بچائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو قبر کے عذاب سے، لوگوں نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں قبر کے عذاب سے یعنی اللہ تعالیٰ ہم کو قبر کے عذاب سے بچائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے پناہ مانگو ظاہری اور باطنی فتتوں سے، لوگوں نے کہا: ہم اللہ سے پناہ چاہتے ہیں ظاہری اور باطنی فتنوں سے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرو، لوگوں نے کہا: ہم اللہ سے پناہ طلب کرتے ہیں دجال کے فتنہ سے۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 129]
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 7213]

فقہ الحدیث:
➊ عذاب قبر اسی زمین پر ہوتا ہے جسے قبر کے قریب والے زمین والے جانور سنتے ہیں۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عالم الغیب نہیں ہیں بلکہ یہ صرف اللہ ہی کی صفت خاصہ ہے۔
➌ اگر عام لوگوں کو عذاب قبر کا نظارہ ہو جائے تو میت کو دفن کرنے سے جاہل مارے خوف کے دور بھاگیں گے اور اہل علم بھی عام لوگوں کے مردوں سے دور رہیں گے۔
➍ عذاب قبر ایمان بالغیب میں سے ہے۔
➎ قبر سے مراد زمینی گڑھا ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 129]