🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب ذكر الدجال :
باب: دجال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2937 ترقیم شاملہ: -- 7373
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ، فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكُمْ؟ "، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً، فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَقَالَ: " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ، وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ، فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا، يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟، قَالَ: " أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ "، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ؟، قَالَ: لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ "، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟، قَالَ: " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ، فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ، فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ، فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ، فَيَقُولُ: لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ، فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ، فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ، فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ، فَيَقُولُونَ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ، وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى، وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّه عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ "،
ابوخیثمہ زہیر بن حراب اور محمد بن مہران رازی نے مجھے حدیث بیان کی۔ الفاظ رازی کے ہیں۔ کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے یحییٰ بن جابر قاضی حمص سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد جبیر بن نفیر سے اور انہوں نے حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا۔ آپ نے اس (کے ذکر کے دوران) کبھی آواز دھیمی کی کبھی اونچی کی۔ یہاں تک کہ ہمیں ایسے لگا جیسے وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ جب شام کو ہم آپ کے پاس (دوبارہ) آئے تو آپ نے ہم میں اس (شدید تاثر) کو بھانپ لیا۔ آپ نے ہم سے پوچھا: تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! صبح کے وقت آپ نے دجال کا ذکر فرمایا تو آپ کی آواز میں (ایسا) اتار چڑھاؤ تھا کہ ہم نے سمجھا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تم لوگوں (حاضرین) پر دجال کے علاوہ دیگر (جہنم کی طرف بلانے والوں) کا زیادہ خوف ہے۔ اگر وہ نکلتا ہے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو تمہاری طرف سے اس کے خلاف (اس کی تکذیب کے لیے) دلائل دینے والا میں ہوں گا اور اگر وہ نکلا اور میں موجود نہ ہوا تو ہر آدمی اپنی طرف سے حجت قائم کرنے والا خود ہو گا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (خود نگہبان) ہوگا۔ وہ گچھے دار بالوں والا ایک جوان شخص ہے، اس کی ایک آنکھ بے نور ہے۔ میں ایک طرح سے اس کو عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۔ تم میں سے جو اسے پائے تو اس کے سامنے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ وہ عراق اور شام کے درمیان ایک راستے سے نکل کر آئے گا۔ وہ دائیں طرف بھی تباہی مچانے والا ہوگا اور بائیں طرف بھی۔ اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! زمین میں اس کی سرعت رفتار کیا ہوگی؟ آپ نے فرمایا: بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو۔ وہ ایک قوم کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا، وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ تو وہ آسمان (کے بادل) کو حکم دے گا، وہ بارش برسائے گا اور وہ زمین کو حکم دے گا تو وہ فصلیں اگائے گی۔ شام کے اوقات میں ان کے جانور (چراگاہوں سے) واپس آئیں گے تو ان کے کوہان سب سے زیادہ اونچے اور تھن انتہائی زیادہ بھرے ہوئے اور کوکھیں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ پھر ایک (اور) قوم کے پاس آئے گا اور انہیں (بھی) دعوت دے گا۔ وہ اس کی بات ٹھکرا دیں گے۔ وہ انہیں چھوڑ کر چلا جائے گا تو وہ قحط کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے مال و مویشی میں سے کوئی چیز ان کے ہاتھ میں نہیں ہوگی۔ وہ (دجال) بنجر زمین سے گزرے گا تو اس سے کہے گا: اپنے خزانے نکال، تو اس (بنجر زمین) کے خزانے اس طرح (نکل کر) اس کے پیچھے لگ جائیں گے جیسے شہد کی مکھیوں کی رانیاں۔ پھر وہ ایک بھرپور جوان کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر (یکبارگی) دو حصوں میں تقسیم کر دے گا جیسے نشانہ بنایا جانے والا ہدف (یکدم ٹکڑے ہو گیا) ہو۔ پھر وہ اسے بلائے گا تو وہ (زندہ ہو کر دیکھتے ہوئے چہرے کے ساتھ) ہنستا ہوا آئے گا۔ وہ (دجال) اسی عالم میں ہوگا جب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو معبوث فرمائے گا۔ وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب دو کیسری کپڑوں میں، دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے گریں گے، اور سر اٹھائیں گے تو اس سے چمکتے موتیوں کی طرح پانی کی بوندیں گریں گی۔ کسی کافر کے لیے جو ان کی سانس کی خوشبو پائے گا مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ان کی سانس (کی خوشبو) وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ آپ علیہ السلام اسے ڈھونڈیں گے تو اسے لود کے دروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنہیں اللہ نے اس (دجال کے دام میں آنے) سے محفوظ رکھا ہوگا، تو وہ اپنے ہاتھ ان کے چہروں پر پھیریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجات کی خبر دیں گے۔ وہ اسی عالم میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائے گا: میں نے اپنے (پیدا کیے ہوئے) بندوں کو باہر نکال دیا ہے، ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ آپ میری بندگی کرنے والوں کو اکٹھا کر کے طور کی طرف لے جائیں۔ اور اللہ یاجوج و ماجوج کو بھیج دے گا، وہ ہر اونچی جگہ سے امڈتے ہوئے آئیں گے۔ ان کے پہلے لوگ (میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیل) بحیرہ طبریہ سے گزریں گے اور اس میں جو (پانی) ہوگا اسے پی جائیں گے، پھر آخری لوگ گزریں گے تو کہیں گے: کبھی اس (بحیرہ) میں (بھی) پانی ہوا کرتا تھا۔ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصور ہو کر رہ جائیں گے، حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بیل کا سر اس سے بہتر (قیمتی) ہوگا جتنے آج تمہارے لیے سو دینار ہیں۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گڑگڑا کر دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج و ماجوج) پر ان کی گردنوں میں کیڑوں کا عذاب نازل کر دے گا تو وہ ایک انسان کے مرنے کی طرح (یکبارگی) اس کا شکار ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اتر کر (میدانی) زمین پر آئیں گے تو انہیں زمین میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی جو ان کی گندگی اور بدبو سے بھری ہوئی نہ ہو۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے سامنے گڑگڑائیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی طرح (لمبی گردنوں والے) پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا جا پھینکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کوئی گھر اینٹوں کا ہو یا اون کا (خیمہ) اوٹ مہیا نہیں کر سکے گا۔ وہ زمین کو دھو کر شیشے کی طرح (صاف) کر چھوڑے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل اگاؤ اور اپنی برکت لوٹا لاؤ، تو اس وقت ایک انار کو پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں (اتنی) برکت ڈالی جائے گی کہ اونٹنی کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اور گائے کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کے قبیلے کو کافی ہوگا اور بکری کا ایک دفعہ کا دودھ قبیلے کی ایک شاخ کو کافی ہوگا۔ وہ اسی عالم میں رہ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا، وہ لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی اور ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، وہ گدھوں کی طرح (برسرعام) آپس میں اختلاط کریں گے، تو انہی پر قیامت قائم ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2937
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نواس بن سمعان الكلابيصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← نواس بن سمعان الكلابي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن جبير الحضرمي، أبو حمير، أبو حميد
Newعبد الرحمن بن جبير الحضرمي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥يحيى بن جابر الطائي، أبو عمرو
Newيحيى بن جابر الطائي ← عبد الرحمن بن جبير الحضرمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← يحيى بن جابر الطائي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥محمد بن مهران الجمال، أبو جعفر
Newمحمد بن مهران الجمال ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥نواس بن سمعان الكلابي
Newنواس بن سمعان الكلابي ← محمد بن مهران الجمال
صحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← نواس بن سمعان الكلابي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن جبير الحضرمي، أبو حمير، أبو حميد
Newعبد الرحمن بن جبير الحضرمي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥يحيى بن جابر الطائي، أبو عمرو
Newيحيى بن جابر الطائي ← عبد الرحمن بن جبير الحضرمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← يحيى بن جابر الطائي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7373
غير الدجال أخوفني عليكم إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم
جامع الترمذي
2240
غير الدجال أخوف لي عليكم إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم شاب قطط عينه طافئة شبيه بعبد العزى بن قطن من رآه منكم فليقرأ فواتح سورة الكهف
سنن ابن ماجه
4075
غير الدجال أخوفني عليكم إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم شاب قطط عينه قائمة كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن من رآه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7373 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7373
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فخفض فيه ورافع:
اس کے بارے میں طویل گفتگو فرماتے ہوئے،
آواز کو کبھی پست کیا اور کبھی بلند کیا،
یا کبھی اس کے مقام ومرتبہ کی تحقیر کی کہ وہ کانا ہے،
اللہ کے نزدیک وہ بہت حقیر ہے،
وہ صرف ایک آدمی کو قتل کرسکے گا،
بعد میں قتل ہوگا،
اس کے ساتھی شکست کھا کر قتل ہوجائیں گے اور کبھی اس کے فتنہ اور آزمائش کو بڑا بیان کیااور اس سے خرق عادت کام سرزد ہوں گے،
اس لیے ہر نبی نے اس کے خطرہ سے ڈرایا ہے۔
(2)
غيرالدجال اخوفني عليكم یعنی دجال کے سوا فتنے مجھے زیادہ خوفناک محسوس ہوتے ہیں،
جیسے باہمی خانہ جنگی،
دنیا کی حرص وآز،
گمراہ کرنے والے ضلالت پیشہ رہنما۔
(3)
انا حجيجه:
میں اس کے ساتھ دلیل وحجت سے بات کروں گا،
یہ بات آپ نے محض علی سبیل الفرض کہی تھی،
کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے شاید وہ نموداور ہوچکا ہے،
وگرنہ یہ تو طے ہے،
اس کا ظہور آخری زمانہ میں ہوگا،
جیسا کہ آگے آرہا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے قتل کریں گے۔
(4)
كاني لمشبهه:
چونکہ دجال جیسی قبیح اور بدشکل،
کسی کی شکل نہیں ہے،
اس لیے آپ نے كاني،
گویا کا لفظ استعمال کیا۔
(5)
فليقرا عليه فواتح سورة الكهف:
اس کے فتنہ سے بچنے کے لیے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے،
دجال کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لیے ابتدائی تین آیات کا پڑھنا کافی ہے،
اگریہ یا،
دس آیات کرنی چاہییں،
کیونکہ بعد والی آیات میں انسان کی آزمائش وابتلا کا تذکرہ ہے اور زمینی اشیاء کی دلکشی اور رعنائی کا امتحان مقصد کے لیے بیان ہے،
(6)
خلة:
سنگریزوں والاراستہ،
راستہ۔
(7)
عاث:
ماضی کا صیغہ ہے،
کیونکہ اس کے فساد کا وقوع یقینی ہے کہ وہ بہت جلد فساد پھیلائے گا۔
(8)
اقدرواله قدره:
دن کا اندازہ لگاؤ،
جتنی دیر کے بعد ان دنوں نماز پڑھتے ہو،
اتنی دیر کے بعد نمازیں پڑھتے رہنا،
کیونکہ اللہ خرق عادت کے طور پر،
ابتدائی تین دن،
سال،
مہینہ اور ہفتہ کے برابر کردےگا،
سورج یا زمین کی رفتار انتہائی سست کردےگا،
یا وہ ایسے علاقے سے نمودار ہوگا،
جہاں دن رات کا باربار آنا کم ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
جن علاقوں میں دن رات عام طریقہ کے مطابق نہیں ہیں،
وہ نماز اور روزہ کے لیے اندازہ کرلیں گے اور جن علاقوں میں دن اور رات چھ چھ ماہ کے ہیں،
وہاں دن،
رات میں صرف پانچ نمازیں کافی نہیں ہوں گی،
بلکہ چوبیس گھنٹوں میں،
پانچ نمازیں پڑھنی ہوں گی اور اس کے مطابق روزہ رکھنا ہوگا،
اس کے لیے اپنی قریبی علاقہ کے دن،
رات کو سامنے رکھا جائے گا۔
(9)
كالغيث استدبرته الريح:
اس بادلوں کی طرح جس کو ہوا اڑاتی ہے،
یعنی وہ مسافت بہت جلد طے کرے گا،
لوگوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے اس سے خارق عادت بہت سے کام سرزد ہوں گے اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہوگا۔
(10)
فيصبحون ممحلين:
وہ قحط کا شکار ہوجائیں گے۔
(11)
يعاسيب،
يعسوب کی جمع ہے،
شہد کی مکھیوں کے سردار،
جس کے پیچھے وہ اڑتی ہیں۔
(12)
جزلة،
ٹکڑا،
(13)
رمية الغرض:
تیر کے نشانہ کا فاصلہ،
دونوں ٹکڑوں کے درمیان کافی فاصلہ ہوگا۔
(14)
ينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق:
وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے،
(15)
بين مهرودتين:
دوزرد چادروں میں،
یعنی ان کا جوڑا انتہائی خوبصورت ہوگا،
(16)
جمان:
چاندی کے دانے یامنکے،
بقول حافظ ابن کثیر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا ہے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گررہے تھے،
اس حالت میں وہ اتریں گے،
جو اس بات کی علامت ہوگی کہ آپ زندہ رہے ہیں،
(17)
فلا يحل لكافر ان يجدريح نفسه الامات،
جس کافر تک عیسی علیہ السلام کے سانس کی مہک پہنچے گی،
وہ موت سے بچ نہیں سکے گا،
اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ فوراً مرجائے گا،
بلکہ مقصد یہ ہے کہ اب وہ زندہ نہیں رہ سکے گا اور دجال کو خصوصی طور پر،
آپ قتل کریں گے،
تاکہ لوگوں کو اس کا خون اپنے بھالے پر دکھائیں،
وگرنہ وہ بھی آپ کے سانس کی بو سے ہلاک ہوجاتا،
اس لیے کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
(18)
لد:
آج کل اسرائیل کا ہوائی اڈہ ہے اور یہ شہر فلسطین کے علاقہ میں،
بیت المقدس کے قریب واقع ہے۔
(19)
يمسح عن وجوههم:
عزت وتکریم کے لیے،
سفر کی وجہ سے ان کے چہروں پر جو گردوغبار ہوگی،
اس کو صاف کریں گے،
یا دجال کے قتل کی خبردےکر،
تبرک وبرکت کے لیے،
غم وحزن اور خوف دور کرنے کے لیے ہاتھ پھیریں گے۔
(20)
عبادالي:
اپنے تکوینی اور تقدیری حکم کو پورا کرنے کے لیے اپنے بندے نکالے ہیں کہ لايدان لاحد بقتالهم،
ان سے جنگ کے لیے کسی کے دوہاتھ یعنی قوت وطاقت نہیں ہے اور جب عباد سے مراد نیک بندے ہو تو ان کی اللہ کی طرف بلاصلہ وواسطہ اضافت کی جاتی ہے،
جیسےعباد الرحمن،
عبده،
عبدالله،
اگر تکوینی حکومت کے پابند مراد ہوں،
جو کافروسرکش ہوتے ہیں تو پھراضافہ کےلیےلام کاواسطہ لایاجاتاہے،
جیسےفرمایا،
بعثناعليكم عبادالنااور اس حدیث میں عبادالي،
اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے لیے ہے۔
(21)
حرزعبادي:
میرےبندوں کومحفوظ کرو،
پناہ دوں،
(طورپرلےجاکر) (22)
حدب:
ٹیلہ،
بلندجگہ،
(23)
ينسلون،
دوڑ رہے ہوں گے،
(24)
بحيره طبرية،
اردن کےعلاقہ میں ہے۔
(25)
كجريةطبرية،
شہرہے جس کے قریب بحیرہ واقع ہے اورامام طبرانی،
اس شہر کی طرف منسوب ہیں۔
(26)
كان بهذه مرة ماء:
علامات ونشانات دیکھ کر کہیں گے،
کبھی یہاں پانی رہاہے۔
جبل طورپر عیسیٰ علیہ السلام اور ان ساتھ محصور ہوجائیں گے تو غذائی قلت کی بنا پر،
گائے یا بیل کا سرجو عام گوشت سے سستا ہوتا ہے،
اس کی قیمت بھی سو(100)
دینار تک پہنچ جائےگی۔
(27)
نغف:
وہ کیڑاجواونٹوں اور بکریوں کے ناکوں(نتھنوں)
میں پیدا ہوتاہے۔
(28)
فرسي:
فريس کی جمع ہے،
ہلاک ہونے والے،
بیک وقت سب سے غضب الٰہی کا شکار(فریسہ)
ہوجائیں گے۔
(29)
زهم:
چکناہٹ،
بدبو کے معنی میں بھی آجاتا ہے،
(30)
لايكن منه:
اس بارش سے کوئی اوٹ یا چھت کسی کو بچا نہیں سکے گی،
بارش ہرجگہ،
چھت ٹپک کربھی پہنچ جائے گی،
(31)
زلفةشيتة:
ڈیم۔
(32)
فئام:
گروہ،
جماعت،
قبیلہ کےنیچےبطن (خاندان)
اوراس کے نیچے،
(33)
فخذ،
کنبہ ایک آدمی کا اہل وعیال۔
(34)
تهارج:
اختلاط،
میل ملاپ،
مراد جنسی تعلقات ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7373]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4075
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان۔
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو اس میں آپ نے کبھی بہت دھیما لہجہ استعمال کیا اور کبھی روز سے کہا، آپ کے اس بیان سے ہم یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے وہ انہی کھجوروں میں چھپا ہوا ہے، پھر جب ہم شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر خوف کے آثار کو دیکھ کر فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو صبح کے وقت دجال کا ذکر فرمایا تھا اور جس میں آپ نے پہلے دھیما پھر تیز لہجہ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4075]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سورہ کہف کے پہلے رکوع کی تلاوت دجال کے فتنے سے حفاظت کا باعث ہے۔

(2)
علماء کو چاہیے کہ علامات قیامت کی صحیح احادیث عوام کو سنائیں خاص طور پر دجال کے بارے میں انھیں باخبر کریں تاکہ وہ فتنے سے بچ سکیں۔

(3)
دجال کے حکم پر بارش کا برسنا یا قحط پڑجانا اسی طرح ایک آزمائش ہے جس طرح اس کی جنت اور جہنم یا اس کا مردے کو زندہ کرنا۔

(4)
دجال کے ظہور کے زمانے میں دن رات کا موجودہ نظام محدود مدت کے لیے معطل ہوجائے گا۔

(5)
ایک سال کے برابر لمبے دن میں، وقت کا اندازہ کر کے، پورے سال کی نمازیں ادا کرنے کا حکم ہے۔
اس میں اشارہ ہے کہ اس وقت انسانوں کے پاس ایسے ذرائع ہوں گے جن سے وہ وقت کا صحیح اندازہ کرسکیں گے اس میں گھڑی کی ایجاد کی پیش گوئی ہے۔

(6)
اس حدیث سے قطب شمالی اور قطب جنوبی کے ان علاقوں کے بارے میں بھی جہاں سال کے بعض حصوں میں دن رات کا معروف نظام نہیں رہتا۔
ایسے علاقوں میں نماز اور روزے کا اندازہ گھڑی دیکھ کر کیا جائے۔
اگر کوئی شخص خلا میں جائے تو وہاں بھی اسی اصول کو مد نظر رکھے۔

(7)
حضرت عیسی ٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔
اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔
اور یہ بھی متفق علیہ مسئلہ ہے کہ وہ دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔
اس سے صرف مرزا غلام قادیانی اور اس کے پیروکا ر اختلاف رکھتے ہیں۔

(8)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بہت سے معاملات معجزانہ کیفیت رکھتے ہیں۔
ان میں سے یہ بھی ہے کہ پہلے کافروں نے انھیں شہید کرنے کی کوشش کی تھی اب کافروں کا ان کی حد نظر میں زندہ رہنا ممکن نہ ہوگا۔

(9)
لد ایک شہر ہے جو فلسطین (موجودہ یہودی ریاست اسرائیل)
میں واقع ہے۔
وہاں ہوائی اڈہ بھی ہے۔
ممکن ہے کہ شہر کے دروازے سے مراد اس کا ہوائی اڈہ ہو جہاں دجال فرار ہونے کی کوشش میں حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے قابو میں آجائے۔

(10)
دجال بھی مسیح کہلاتا ہے مگر وہ جھوٹا مسیح ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام سچے مسیح ہیں جن کے ہاتھ سے وہ جہنم میں رسید ہوگا۔

(11)
یاجوج ماجوج جسمانی لحاظ سے قوی ہیکل ہونگےاور تعداد میں بھی بہت زیادہ ہونگےاس لیے عام انسان ان کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔

(12)
یاجوج ماجوج اس وقت کہاں ہیں؟ یہ معلوم نہیں تاہم وہ یقیناًموجود ہیں اس میں شک نہیں۔

(13)
اہل چین یا اہل روس یا اس کے علاوہ کسی ملک کے باسی لوگوں کو یاجوج ماجوج قراردینا درست نہیں۔

(14)
یاجوج ماجوج اچانک ختم ہوجائینگے۔

(15)
یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد نباتات اور حیوانات کی پیداوار میں بہت زیادہ برکت ہوگی۔

(16)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات مدینہ منورہ میں ہوگی۔

(17)
ان کے بعد ان کے خلفاء ہونگے مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی آخر ایک خاص ہوا سے بچے کھچے مسلمان فوت ہوجائیں گے۔

(18)
قیامت کے ابتدائی مراحل مثلاً:
صور پھونکے جانے پر سب کا مرجانا وغیرہ بہت شدید مراحل ہیں۔
اللہ تعالی مسلمانوں کو ان سے محفوظ رکھے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4075]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2240
دجال کے فتنے کا بیان۔
نواس بن سمعان کلابی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے (اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو) آواز کو بلند اور پست کیا ۱؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ (مدینہ کی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آ گئے، (جب بعد میں) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا: کیا معاملہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے (اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے) اپنی آواز کو بلند اور پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2240]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
فخض فيه ورفع کے معنی ومطلب کے بارے میں دوقول ہیں:
ایک (خفض)،
(حقر)کے معنی میں یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ ذلیل وحقیر ہے،
حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں کانا پیداکیا،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دجال اللہ رب العزت کے یہاں اس سے زیادہ ذلیل ہے یعنی وہ اس ایک آدمی کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر قدرت نہیں رکھے گا،
بلکہ ایسا کرنے سے عاجز ہوگا،
اس کا معاملہ کمزور پڑ جائے گا،
اور اس کے بعد اس کا اور اس کے اتباع ومویدین کا قتل ہو جائے گا،
اور (رفع) کے معنی اس کے شراور فتنے کی وسعت ہے اور یہ کہ اس کے پاس جوخرق عادت چیزیں ہوں گی وہ لوگو ں کے لیے ایک بڑا فتنہ ہوں گی،
یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اس کے فتنے سے ڈرایا،
دوسرا معنی اس جملے کا یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تذکرہ اتنا زیادہ کیا کہ لمبی گفتگو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کم ہوگئی تاکہ دورانِ گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما لیں پھرسب کو اس فتنے سے آگاہ کرنے کے لیے آپ کی آواز بلند ہو گئی۔

2؎:
یعنی میری زندگی کے بعد فتنہ دجال کے وقت میری امت کا نگراں اللہ رب العالمین ہے۔

3؎:
لُد:
بیت المقدس کے قریب ایک شہرہے،
النہایة فی غریب الحدیث میں ہے کہ لُد ملک شام میں ایک جگہ ہے،
یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین میں ایک جگہ ہے،
(یہ آج کل اسرائیل کا ایک فوجی اڈہ ہے) 4 ؎:
اُن کے اسلحہ کی مقدار اس قدر زیادہ ہو گی،
یا مسلمانوں کی تعداد اُس وقت اس قدرکم ہو گی۔

5؎:
اس حدیث میں علامات قیامت،
خروج دجال،
نزول عیسیٰ بن مریم،
یاجوج وماجوج کا ظہور اور ان کے مابین ہونے والے اہم واقعات کا تذکرہ ہے،
دجال کی فتنہ انگیزیوں،
یاجوج وماجوج کے ذریعہ پیدا ہونے والے مصائب اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اور ان کی دعاؤں سے ان کے خاتمے کا بیان ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2240]