علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 1967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ، لِمَنْ هُوَ؟ وَعَنِ الصَّبِيِّ، مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ؟ وَعَنِ النِّسَاءِ، هَلْ كَانَ يَخْرُجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ؟ وَعَنِ الْعَبْدِ، هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ؟ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَمَّا الصِّبْيَانُ، فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ، وَأَمَّا الْخُمُسُ، فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا، وَأَمَّا النِّسَاءُ، فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ، وَأَمَّا الصَّبِيُّ، فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ، وَأَمَّا الْعَبْدُ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ".
عطاء کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ایک خط میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بچوں کو قتل کرنے کے متعلق دریافت کیا اور یہ پوچھا کہ خمس کس کا حق ہے؟ بچے سے یتیمی کا لفظ کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتوں کو جنگ میں لے کر نکلا جا سکتا ہے؟ کیا غلام کا مال غنیمت میں کوئی حصہ ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں لکھا کہ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اگر تم خضر علیہ السلام ہو کر مومن اور کافر میں فرق کر سکتے ہو تو ضرور قتل کرو، جہاں تک خمس کا مسئلہ ہے تو ہم یہی کہتے تھے کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم کا خیال یہ ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں ہے، رہا عورتوں کا معاملہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں لیکن جنگ میں شریک نہیں ہوتی تھیں، اور بچے سے یتیمی کا داغ اس کے بالغ ہونے کے بعد دھل جاتا ہے، اور باقی رہا غلام تو مال غنیمت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ انہیں بھی تھوڑا بہت دے دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1967]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحجاج وإن عنعنه توبع .
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥الحجاج بن دينار الأشجعي الحجاج بن دينار الأشجعي ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة | |
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية محمد بن خازم الأعمى ← الحجاج بن دينار الأشجعي | ثقة |
Musnad Ahmad Hadith 1967 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي