مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
954. حديث أسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 21770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي , قَالَ:" لِمَ" , قَالَ: شَفَقًا عَلَى وَلَدِهَا , أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ لَذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَّ ذَلِكَ , فَارِسَ وَلَا الرُّومَ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرنا چاہتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وجہ سے پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کے بچوں کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صرف اس وجہ سے کرنا چاہتے ہو تو ایسا مت کرو کیونکہ اس چیز سے تو اہل فارس وروم کو بھی نقصان نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21770]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1443
الرواة الحديث:
عامر بن سعد القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي