مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
954. حديث أسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 21800
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قَالُوا لَه: أَلَا تَدْخُلُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ فَتُكَلِّمُهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ , وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ يَكُونَ عَلَيَّ أَمِيرًا: إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ , بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ , فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحى , قَالَ: فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ إِلَيْهِ , فَيَقُولُونَ: يَا فُلَانُ أَمَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ , وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ , قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ , وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ" .
ابو وائل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے جو بھی بات کروں گا وہ تمہیں بھی بتاؤں گا میں ان سے جو بات بھی کرتا ہوں وہ میرے اور ان کے درمیان ہوتی ہے میں اس بات کو کھولنے میں خود پہل کرنے کو پسند نہیں کرتا اور بخدا! کسی آدمی کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم سب سے بہترین آدمی ہو خواہ وہ مجھ پر حکمران ہی ہو، جبکہ میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں! تجھ پر کیا مصیبت آئی؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21800]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3267، م: 2989
الرواة الحديث:
شقيق بن سلمة الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي