مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25344
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ: سَأَلَهَا رَجُلٌ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ مِنَ اللَّيْلِ إِذَا قَرَأَ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، رُبَّمَا رَفَعَ، وَرُبَّمَا خَفَضَ" . قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً. قَالَ: قَالَ: فَهَلْ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ" . قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی نے پوچھا یہ بتائیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25344]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 25344 in Urdu
يحيى بن يعمر القيسي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق