یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25924
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ , فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ , فَقَالَ:" وَعَلَيْكُمْ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , لَا تَكُونِي فَاحِشَةً" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ , قَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا , قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ" , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ , يَعْنِي فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 حَتَّى فَرَغَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعلیکم، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اتنی کھلی بات کرنے والی نہ بنو، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وعلیکم (تم پر ہی موت طاری ہو) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25924]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6927، م: 2165
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 25924 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق