مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1235. حديث أم سليمان بن عمرو بن الأحوص رضي الله عنها
حدیث نمبر: 27132
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجِمَارَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"، قَالَتْ: فَرَمَى سَبْعًا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَقِفْ، قَالَتْ: وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ .
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آڑ کا کام کر رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27132]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 27132 in Urdu
سليمان بن عمرو الجشمي ← أم جندب الأزدية