مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، مَرَّ بِقُرَيْشٍ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي دَارِ النَّدْوَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّكُمْ هَزْلَى، فَارْمُلُوا إِذَا قَدِمْتُمْ ثَلَاثًا"، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمُوا، رَمَلُوا ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: أَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَتَحَدَّثُ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا، مَا رَضِيَ هَؤُلَاءِ بِالْمَشْيِ حَتَّى سَعَوْا سَعْيًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سال مکہ مکرمہ تشریف لائے تو قریش کے پاس سے گزر ہوا، وہ لوگ دار الندوہ میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”یہ لوگ آپس میں تمہاری جسمانی کمزوری کی باتیں کر رہے ہیں، اس لئے جب تم خانہ کعبہ پہنچو تو طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا“، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا، مشرکین کہنے لگے: کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے ہم باتیں کر رہے تھے کہ یہ لاغر اور کمزور ہو چکے ہیں، یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں بلکہ یہ تو دوڑ رہے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3347]
حکم دارالسلام: صحيح دون قوله : عام الحديبية وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ
الرواة الحديث:
مقسم بن بجرة ← عبد الله بن العباس القرشي