مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ... نَحْوَهُ وَزَادَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا، فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ، فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى". ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا، فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ خاتون دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے نئے شوہر نے اسے چھو لیا ہے (لہذا وہ اب اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا (کیونکہ دوسرے شوہر کا ہمبستری کرنا شرط ہے، چھونا نہیں)، اور فرمایا: ”اے اللہ! اگر اس کی قسم اسے رفاعہ کے لئے حلال کرتی ہے تو اس کا نکاح دوسری مرتبہ مکمل نہ ہوگا“، پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ان دونوں کے دور خلافت میں بھی پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آئی لیکن ان دونوں نے بھی اسے روک دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3441]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي مسلم الخراساني ← عبد الله بن العباس القرشي