🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1186
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1186
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ: يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا کہ وہ باقی بستیوں کو کھا جائے گی لوگ یہ کہتے ہیں: یہ یثرب ہے، حالانکہ یہ مدینہ ہے، جو لوگوں کو یوں باہر نکال دے گا، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو صاف کر دیتی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1871، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1378، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3723، 3733، 3734، 3739، 3740، 6775، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4247، 11335، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3924، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7352، 7487، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5868، 5943، 6374، 6487»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن يسار، أبو الحباب
Newسعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← سعيد بن يسار
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3347
لا يصبر على لأواء المدينة وشدتها أحد من أمتي إلا كنت له شفيعا يوم القيامة أو شهيدا
جامع الترمذي
3924
لا يصبر على لأواء المدينة وشدتها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة
مسندالحميدي
1186
مسندالحميدي
1201
أيما جبار أراد أهل المدينة بسوء أذابه الله في النار كما يذوب الملح في الماء، ولا يصبر أحد على لأوائها وشدتها إلا كنت له شهيدا، أو شفيعا يوم القيامة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1186 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1186
فائدہ:
اس حدیث سے مدینہ منورہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، پہلے اس کا نامیثرب تھا، یاد رہے که مکہ مدینہ سے مجموعی فضائل کے اعتبار سے افضل ہے۔
بعض جھوٹی روایات میں مدینہ مدینہ کہنے کی فضیلت آئی ہے، حالانکہ وہ سخت ترین ضعیف ہیں۔
اے اللہ! راقم کو اور اس کے اہل خانہ کو مکہ یا مد بینہ میں مستقل جگہ نصیب فرما، اور اپنے دین کی خدمت کا موقع میسر فرما، بے شک تو دعاؤں کو سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1184]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3924
مدینہ کی فضیلت کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3924]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
شرط وہی ہے کہ وہ پکا موحد ہو،
کسی طرح کے بھی شرک کا مرتکب اس شفاعت کا مستحق نہیں ہو گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3924]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1201
1201- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو بھی ظالم شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں یوں گھول دے گا، جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور جو شخص یہاں کی سختی اور شدت پر صبر سے کام لے گا، میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ ہوں گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کی شفاعت کروں گا۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1201]
فائدہ:
اس حدیث میں مدینہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھے گا اور اس کے ساتھ فتنہ و فساد کر نے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو تباہ و برباد فرما دے گا، نیز اس حدیث میں مدینہ میں رہنے والوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیامت والے دن سفارش کا ثبوت بھی ملتا ہے، مدینہ میں رہنے والوں کو اگر کسی مشکل کا سامنا بھی ہو تب بھی وہ مدینہ نہ چھوڑیں، کیونکہ جب وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے تو قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے محروم ہو جائیں گے، اے اللہ! ہمیں بھی مکہ یا مدینہ میں مستقل رہنے کا شرف عطا فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1199]