مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1193
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْغُضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ هُوَ الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحُّ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهَمْ، وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فحش باتیں کرنے سے بچو! کیونکہ اللہ تعالیٰ فحاشی کرنے والے اور فحش گفتگو کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے اور ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہوگا، اور بخل سے بچو! کیونکہ اسی بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو خون بہانے، قطع رحمی کرنے اور حرام چیزوں کو حلال کرنے کی ترغیب دی تھی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5177، 6248، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 28، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9699، 9701، والبزار فى «مسنده» برقم: 8481، 8486»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1193 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1193
فائدہ:
اس حدیث میں بے حیائی والی باتوں اور ظلم سے پر ہیز کرنے کی تاکید کی گئی ہے، نیز بخل کی حرمت بھی ثابت ہوتی ہے۔ ہر انسان کو اپنے اندرا چھی صفات پیدا کرنی چاہئیں، کیونکہ ان سے انسان میں انسانیت پیدا ہوتی ہے، جس کا ہر کسی کو فائدہ ہوگا اور ہر انسان اپنے آپ کو بری صفات سے بچا کر رکھے، کیونکہ ان میں نقصان ہی نقصان ہے، اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔
اس حدیث میں بے حیائی والی باتوں اور ظلم سے پر ہیز کرنے کی تاکید کی گئی ہے، نیز بخل کی حرمت بھی ثابت ہوتی ہے۔ ہر انسان کو اپنے اندرا چھی صفات پیدا کرنی چاہئیں، کیونکہ ان سے انسان میں انسانیت پیدا ہوتی ہے، جس کا ہر کسی کو فائدہ ہوگا اور ہر انسان اپنے آپ کو بری صفات سے بچا کر رکھے، کیونکہ ان میں نقصان ہی نقصان ہے، اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1191]
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي