مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 857
حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ ظَنَنْتُ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم میں سے کسی نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت کی ہے“، تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں! میں نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرا مقابلہ کر رہا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن مسلم المكي، غير أنه متابعه عليه، والحديث صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 398، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 916، 917، 1743، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 991، 992، وأبو داود فى "سننه برقم: 828، 829، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2951، 2952، 2953، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20129 برقم: 20130»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥زرارة بن أوفى العامري، أبو حاجب زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← زرارة بن أوفى العامري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥إسماعيل بن مسلم المكي، أبو إسحاق إسماعيل بن مسلم المكي ← قتادة بن دعامة السدوسي | منكر الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← إسماعيل بن مسلم المكي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1459
| أوتي رسول الله صلى الله عليه سلم سبعا من المثاني الطول أوتي موسى ستا فلما ألقى الألواح رفعت ثنتان وبقي أربع |
سنن النسائى الصغرى |
916
| أوتي النبي سبعا من المثاني السبع الطول |
مسندالحميدي |
857
| قد ظننت أن بعضكم خالجنيها |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 857 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:857
فائدہ:
جب امام جہری قرأت کرے تو مقتدیوں کو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔
جب امام جہری قرأت کرے تو مقتدیوں کو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 856]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 916
تفسیر آیت کریمہ: ”یقیناً ہم آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہے اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے“۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 916]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 916]
916 ۔ اردو حاشیہ:
➊ ”سبع مثانی“ کی ایک یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ قرآن کی ابتدائی سات لمبی سورتیں مراد ہیں، یعنی 1۔ البقرہ، 2۔ آل عمران، 3۔ النساء، 4۔ المائدۃ، 5۔ الانعام، 6۔ الاعراف، 7۔ یونس۔ اور ایک روایت کے مطابق سورۂ کہف ہے۔
➋ محققِ کتاب نے اسے سنداً ضعیف کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے قوی الاسناد کہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 5؍200، وفتح الباري: 8؍485، تحت حدیث: 4703]
➊ ”سبع مثانی“ کی ایک یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ قرآن کی ابتدائی سات لمبی سورتیں مراد ہیں، یعنی 1۔ البقرہ، 2۔ آل عمران، 3۔ النساء، 4۔ المائدۃ، 5۔ الانعام، 6۔ الاعراف، 7۔ یونس۔ اور ایک روایت کے مطابق سورۂ کہف ہے۔
➋ محققِ کتاب نے اسے سنداً ضعیف کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے قوی الاسناد کہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 5؍200، وفتح الباري: 8؍485، تحت حدیث: 4703]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 916]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1459
سورۃ فاتحہ لمبی سورتوں میں سے ہے اس کے قائل کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1459]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1459]
1459. اردو حاشیہ: بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں فاتحہ کی ہیں۔ جو بااعتبار الفاظ اگرچہ مختصر ہیں۔ مگر بااعتبار معنی بڑی لمبی لمبی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1459]
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي