🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 872
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ، يَقُولُ:" خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَسَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ بِأَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ أَبُو وَاقِدٍ:" ب ق، وَاقَتْرَبَتْ" .
عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: عید کے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے سیدنا ابوواقعد لیثی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی سورت کی تلاوت کی تھی؟ تو سیدنا ابوواقعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: سورہ ق اور سورہ اقتربت کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 891، ومالك فى «الموطأ» برقم: 618، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1440، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2820، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1566، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1786، 11486، 11487، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1154، والترمذي فى «جامعه» برقم: 534، 535، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1282، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6277، 6278، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1719، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22314، 22329»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد اللهثقة فقيه ثبت
👤←👥ضمرة بن سعيد الأنصاري
Newضمرة بن سعيد الأنصاري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← ضمرة بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2060
قرأ رسول الله في يوم العيد ب اقتربت الساعة وق والقرآن المجيد
صحيح مسلم
2059
في الأضحى والفطر كان يقرأ فيهما ب ق والقرآن المجيد واقتربت الساعة وانشق القمر
جامع الترمذي
534
في الفطر والأضحى كان يقرأ ب ق والقرآن المجيد و اقتربت الساعة وانشق القمر
سنن أبي داود
1154
في الأضحى والفطر كان يقرأ فيهما ق والقرآن المجيد و اقتربت الساعة وانشق القمر
سنن ابن ماجه
1282
يوم عيد كان النبي يقرأ في مثل هذا اليوم ب ق و اقتربت
مسندالحميدي
872
بأي شيء قرأ النبي صلى الله عليه وسلم؟
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 872 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:872
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ میڈیم عید نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ ق اور دوسری رکعت میں سورۃ القمر کی تلاوت کرتے تھے۔ جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ اور نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم بصلوة المسافرين: 878]
علمائے کرام کو مسنون قرأت کا ہی اہتمام کرنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 872]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1154
عید الاضحی اور عیدالفطر میں کون سی سورتیں پڑھے؟
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1154]
1154۔ اردو حاشیہ:
عیدین میں ان سورتوں کی قرأت مسنون اور مستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1154]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1282
نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن نماز عید میں کون سی سورۃ پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: سورۃ «قٓ» اور «اقتربت الساعۃ» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1282]
اردو حاشہ:
فائدہ:
عیدین کی نمازوں میں دونوں احادیث میں مذکور سورتیں پڑھنا درست ہے۔
دونوں میں سے جس حدیث کے مطابق تلاوت کی جائےگی سنت پر عمل ہوجائے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1282]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2060
حضرت ابوواقد لیثی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں کیا پڑھا تھا؟ تو میں نے کہا: ﴿اقْتَرَ‌بَتِ السَّاعَةُ﴾ اور ﴿ق ۚ وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ﴾ کی قرآت کی تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2060]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورۃ اعلیٰ اور سورۃ غاشیہ کی بجائے کبھی سورۃ ق اور سورۃ ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ بھی پڑھا کرتے تھے کیونکہ سورۃ ق میں قرآن مجید کی عظمت کے ذکر کے بعد مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو ثابت کیا ہے اور بتایا ہے کہ لوگوں کے اعمال واقوال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے ہوشیار اور حاضر باش فرشتے مقرر ہیں اور اس کے لیے ایک رجسٹر ہے جس میں ان کا اندراج ہو رہا ہے قیامت کی تصویر کشی ہے۔
مکذبین کے حالات کی تفصیل ہے اور ایمان داروں کی سرفرازی کا بیان ہے۔
قوموں کے عروج وزوال کی داستان ہے رسول کی ذمہ داری کا بیان اور اس کے لیے جس صبر واستقامت کی ضرورت ہے اس کے حصول کے لیے نماز کی تلقین ہے اس طرح یہ سورۃ انتہائی عبرت انگیز اور سبق آموز ہے۔
اسی طرح سورۃ ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ میں مختلف قوموں کے حالات وواقعات بیان کرکے ان کے انجام سے سبق لینے کی ہدایت ہے اوربتایا گیا ہے کہ قرآن مجید عبرت ونصیحت اور یاد دہانی حاصل کرنے کے لیے ہر پہلو سے آراستہ ہے اس لیے تم اس سے فائدہ اٹھا کر اپنا انجام اچھا بنا لو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2060]