مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
10. باب بيان أن صاحب المال أحق بماله عند المفلس
باب مفلس کے پاس اپنا سامان پانے والے کے زیادہ حق دار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ ثُمَّ وَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ عِنْدَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَوْلَى بِهِ مِنْ غَيْرِهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مفلس ہو گیا، پھر قرض خواہ نے اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پا لیا تو وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حقدار ہے۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»
الرواة الحديث:
أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أبو هريرة الدوسي