علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. باب إذا شك في الثنتين والثلاث من قال يلقي الشك
باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے (اور کم کو اختیار کرے) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا فَلْيَقُمْ فَلْيُتِمَّ رَكْعَةً بِسُجُودِهَا، ثُمَّ يَجْلِسْ فَيَتَشَهَّدْ، فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ". ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، إِلا أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ.
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہو جائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے“۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1027]
زید بن اسلم نے مالک کی سابقہ سند سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو تو اگر اسے یقین ہو کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں تو چاہیے کہ کھڑا ہو اور ایک رکعت سجدوں سمیت پوری کرے، پھر بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے۔ جب فارغ ہو جائے اور صرف سلام کہنا باقی ہو تو چاہیے کہ دو سجدے کرے پھر سلام کہے۔“ پھر مالک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داؤد بن قیس اور ہشام بن سعد سے اسی طرح (مرسل) روایت کیا ہے، مگر ہشام نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے موصولاً بیان کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1024، 1026)، (تحفة الأشراف: 4163) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1026)
انظر الحديث السابق (1026)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1027 in Urdu
يعقوب بن عبد الرحمن القاري ← زيد بن أسلم القرشي