علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. باب إذا شك في الثنتين والثلاث من قال يلقي الشك
باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے (اور کم کو اختیار کرے) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں (سجدوں) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہو جائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1026]
جناب عطاء بن یسار (تابعی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ رہے کہ کتنی نماز پڑھی ہے، تین یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت پڑھے اور دو سجدے کرے جبکہ وہ بیٹھا ہوا ہو، سلام سے پہلے۔ اگر اس کی یہ رکعت پانچویں ہوئی تو ان سجدوں کے ساتھ مل کر دوگانہ ہو جائے گی اور اگر چوتھی ہی ہوئی تو یہ سجدے شیطان کی رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1024)، (تحفة الأشراف: 4163، 19091) (صحیح)» (یہ حدیث بھی حدیث نمبر: (1024) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جان بوجھ کر حذف کر دیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد عند ابن عبد البر في التمھيد (5/20 وسنده صحيح)
وللحديث شواھد عند ابن عبد البر في التمھيد (5/20 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد | ثقة | |
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله زيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1026
| إذا شك أحدكم في صلاته فإن استيقن أن قد صلى ثلاثا فليقم فليتم ركعة بسجودها ثم يجلس فيتشهد فإذا فرغ فلم يبق إلا أن يسلم فليسجد سجدتين وهو جالس ثم ليسلم |
سنن النسائى الصغرى |
1258
| حل حبوته ثم سجد سجدتي السهو وقال هكذا فعل رسول الله |
سنن النسائى الصغرى |
1259
| أن علقمة صلى خمسا فلما سلم |
Sunan Abi Dawud Hadith 1026 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي