🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب ركعتى المغرب أين تصليان
باب: مغرب کی دو رکعت سنت کہاں پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ:" هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 307 (الجمعة 71) (604)، سنن النسائی/قیام اللیل 1 (1601)، (تحفة الأشراف: 11107) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1182)
أخرجه الترمذي (604 وسنده حسن) والنسائي (1601 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1201 وسنده حسن) إسحاق بن كعب بن عجرة: حسن الحديث علي الراجح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥إسحاق بن كعب القضاعي
Newإسحاق بن كعب القضاعي ← كعب بن عجرة الأنصاري
مجهول الحال
👤←👥سعد بن إسحاق القضاعي
Newسعد بن إسحاق القضاعي ← إسحاق بن كعب القضاعي
ثقة
👤←👥محمد بن موسى الفطري، أبو عبد الله
Newمحمد بن موسى الفطري ← سعد بن إسحاق القضاعي
صدوق رمي بالتشيع
👤←👥محمد بن أبي الوزير القرشي، أبو المطرف
Newمحمد بن أبي الوزير القرشي ← محمد بن موسى الفطري
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي الأسود البصري، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي الأسود البصري ← محمد بن أبي الوزير القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1601
عليكم بهذه الصلاة في البيوت
جامع الترمذي
604
عليكم بهذه الصلاة في البيوت
سنن أبي داود
1300
هذه صلاة البيوت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1300 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1300
1300۔ اردو حاشیہ:
مستحب یہی ہے کہ مغرب کی سنتیں یا اس کے بعد دیگر نوافل گھروں میں پڑھے جائیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1300]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1601
گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (سنت) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1601]
1601۔ اردو حاشیہ: یہ نماز یعنی مغرب کی سنتیں یا مطلقاً سنتیں اور نافل۔ یہ امر استحباب کے لیے ہے، نہ کہ وجوب کے لیے کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے بعد نوافل مسجد میں پڑھنا ثابت ہے۔ دیکھیے: (سنن ابی داود، التطوع، حدیث: 1301) آج کل زندگی اس قدر تیز اور مصروف ہو گئی ہے کہ فرضوں کے بعد والی سنتیں رہ جانے کا خطرہ ہے جو ایک قبیح باب ہے اگر ایسی ہو تو سنن رواتب فرض نماز کے بعد مسجد ہی میں ادا کرلینی چاہییں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1601]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 604
مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبدالاشہل کی مسجد میں مغرب پڑھی، کچھ لوگ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس نماز کو گھروں میں پڑھنے کو لازم پکڑو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 604]
اردو حاشہ:
1؎:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عام طور پر سنن و نوافل گھر ہی پڑھنا افضل ہے،
ہاں جائز ہے کہ مسجد میں پڑھ لے،
اور اس زمانہ میں تو مسجد ہی میں پڑھنا اچھا ہے کیونکہ اکثر گھروں میں نماز کا انتظام نہیں ہے،
آدمی گھر پہنچتے ہی بعض مسائل سے دوچار ہو کر نماز بھول جاتا ہے،
وغیرہ وغیرہ،
بالکل نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے کہ مسجد ہی میں پڑھے،
ہاں اگر کسی کو اپنے پر پوری قدرت ہو تو ضرور گھر ہی میں پڑھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 604]