سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : الحث على الصلاة في البيوت والفضل في ذلك
باب: گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1601
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَلَمَّا صَلَّى قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (سنت) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 304 (1300)، سنن الترمذی/فیہ 307 (الجمعة 71) (604)، (تحفة الأشراف: 11107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1601
| عليكم بهذه الصلاة في البيوت |
جامع الترمذي |
604
| عليكم بهذه الصلاة في البيوت |
سنن أبي داود |
1300
| هذه صلاة البيوت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1601 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1601
1601۔ اردو حاشیہ: یہ ”نماز“ یعنی مغرب کی سنتیں یا مطلقاً سنتیں اور نافل۔ یہ امر استحباب کے لیے ہے، نہ کہ وجوب کے لیے کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے بعد نوافل مسجد میں پڑھنا ثابت ہے۔ دیکھیے: (سنن ابی داود، التطوع، حدیث: 1301) آج کل زندگی اس قدر تیز اور مصروف ہو گئی ہے کہ فرضوں کے بعد والی سنتیں رہ جانے کا خطرہ ہے جو ایک قبیح باب ہے اگر ایسی ہو تو سنن رواتب فرض نماز کے بعد مسجد ہی میں ادا کرلینی چاہییں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1601]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1300
مغرب کی دو رکعت سنت کہاں پڑھی جائے؟
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گھروں کی نماز ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1300]
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گھروں کی نماز ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1300]
1300۔ اردو حاشیہ:
مستحب یہی ہے کہ مغرب کی سنتیں یا اس کے بعد دیگر نوافل گھروں میں پڑھے جائیں۔
مستحب یہی ہے کہ مغرب کی سنتیں یا اس کے بعد دیگر نوافل گھروں میں پڑھے جائیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1300]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 604
مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبدالاشہل کی مسجد میں مغرب پڑھی، کچھ لوگ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس نماز کو گھروں میں پڑھنے کو لازم پکڑو۔“ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 604]
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبدالاشہل کی مسجد میں مغرب پڑھی، کچھ لوگ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس نماز کو گھروں میں پڑھنے کو لازم پکڑو۔“ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 604]
اردو حاشہ:
1؎:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عام طور پر سنن و نوافل گھر ہی پڑھنا افضل ہے،
ہاں جائز ہے کہ مسجد میں پڑھ لے،
اور اس زمانہ میں تو مسجد ہی میں پڑھنا اچھا ہے کیونکہ اکثر گھروں میں نماز کا انتظام نہیں ہے،
آدمی گھر پہنچتے ہی بعض مسائل سے دوچار ہو کر نماز بھول جاتا ہے،
وغیرہ وغیرہ،
بالکل نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے کہ مسجد ہی میں پڑھے،
ہاں اگر کسی کو اپنے پر پوری قدرت ہو تو ضرور گھر ہی میں پڑھے۔
1؎:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عام طور پر سنن و نوافل گھر ہی پڑھنا افضل ہے،
ہاں جائز ہے کہ مسجد میں پڑھ لے،
اور اس زمانہ میں تو مسجد ہی میں پڑھنا اچھا ہے کیونکہ اکثر گھروں میں نماز کا انتظام نہیں ہے،
آدمی گھر پہنچتے ہی بعض مسائل سے دوچار ہو کر نماز بھول جاتا ہے،
وغیرہ وغیرہ،
بالکل نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے کہ مسجد ہی میں پڑھے،
ہاں اگر کسی کو اپنے پر پوری قدرت ہو تو ضرور گھر ہی میں پڑھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 604]
إسحاق بن كعب القضاعي ← كعب بن عجرة الأنصاري