🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب في صلة الرحم
باب: رشتے داروں سے صلہ رحمی (اچھے برتاؤ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1692]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے گناہگار ہونے کے لیے یہ (عمل) کافی ہے کہ جن کے رزق و اخراجات کا یہ ذمہ دار ہو، انہیں ضائع کر دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8943)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 12 (996)، سنن النسائی/الکبری/عشرة النساء (9176)، مسند احمد (2/160، 194، 195) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو ان سے قطع تعلق کر کے نیکی کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
ابو اسحاق السبيعي صرح بالسماع عند الطيالسي (2281) وله طريق آخر عند مسلم (996)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥وهب بن بيان الخيواني
Newوهب بن بيان الخيواني ← عبد الله بن عمرو السهمي
مقبول
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← وهب بن بيان الخيواني
ثقة مكثر
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2312
كفى بالمرء إثما أن يحبس عمن يملك قوته
سنن أبي داود
1692
كفى بالمرء إثما أن يضيع من يقوت
بلوغ المرام
980
كفى بالمرء إثما أن يضيع من يقوت
مسندالحميدي
610
كفى بالمرء إثما أن يضيع من يعول
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1692 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 1692
وتروں کی تعداد، وتر کی کتنی رکعتیں ہیں۔
علاوہ ازیں نو، سات، پانچ اور تین رکعت وتر پڑھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے البتہ ان میں سے صرف نو رکعت وتر پڑھتے ہوئے دو تشہد ہوں گے جن میں سے پہلا آٹھ رکعتوں کے بعد ہو گا اور دوسرا آخری رکعت کے بعد اور باقی وتروں میں صرف آخری رکعت میں ہی تشہد کے لیے بیٹھا جائے گا۔ ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رات کو وتر کی) نو رکعتیں ادا کیں۔ ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھے ... پھر نویں رکعت پڑھ کر سلام پھیرا .
[مسلم: 746، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب جامع صلاة الليل، أبو داود: 1342، نسائى: 240/3، بيهقي: 30/3]
➋ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ «كان رسول الله يو تر بسبع أو بخمس لا يفصل بينهن بتسليم ولا كلام» رسول اللہ سات یا پانچ وتر پڑھتے تو ان کے درمیان سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 980، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها: باب ماجاء فى الوتر بثلات وخمس وسبع وتسع، ابن ماجة: 1192، أحمد: 239/3، نسائي: 239/3]
➌ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ وتر پڑھتے اور ان میں صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
[مسلم: 237، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب صلاة الليل وعدد ركعات النبى، دارمي: 371/1، أبو داود: 1338، ترمذي: 459]
➍ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الوتـرحـق على كل مسلم فمن أحب أن يوتر بخمس فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل» وتر ہر مسلمان پر حق ہے۔ جسے پانچ وتر پڑھنا پسند ہو وہ ایسا کر لے، جسے تین وتر پڑھنا پسند ہو وہ اس طرح کر لے، اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ بھی ایسا کر لے۔
[صحيح: صحيح أبو داود: 1260، كتاب الصلاة باب كم الوتر، أبو داود: 1422، ابن ماجة: 1190، نسائي: 238/3، أحمد: 418/5، دارمي: 371/1]
➎ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا تو تروا بثلاث .... ولا تشبهو بصلاة المغرب» تین رکعت وتر نہ پڑھو.... اور مغرب کی نماز سے مشابہت نہ کرو۔
[دار قطني: 24/2، شرح معاني الآثار: 292/1، بيهقي: 31/3، حاكم: 304/1]
امام حاکمؒ نے اس حدیث کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام دار قطنیؒ نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔]
(ابن حجرؒ) ممانعت کو ایسی تین رکعت نماز پر محمول کیا جائے گا جس میں دو تشہد ہوں اور بلاشبہ سلف نے اسی طرح کیا ہے یعنی ایک تشہد کے ساتھ ہی وتر پڑھے ہیں۔ [فتح الباري: 558/2 - 559]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [تحفه الأخوذى: 567/2]
(جمہور، مالکؒ، شافعیؒ، احمدؒ) رکعاتِ وتر کی جتنی تعداد مختلف احادیث سے ثابت ہے ان میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
(احناف) تین وتر سے نہ کم درست ہے اور نہ ہی زیادہ۔
[نيل الأوطار: 230/2، الأم: 259/1، المبسوط: 156/1، المغنى: 578/2، بداية المحتهد: 157/1]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے جس پر تمام گذشتہ احادیث شاہد ہیں۔ [تحفة الأحوذي: 565/2]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 456]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1692
1692. اردو حاشیہ: یعنی اپنے بیوی بچے جن کے اخراجات اس کے زمے ہیں یا وہ افراد جو اس کے زیر کفالت ہوں۔مثلاً والدین یادیگر عزیز یا نوکر خادم اور اس کے زیر انتظام ادارے کے ملازمین جنھیں یہ تنخواہ دیتا ہو۔اس قسم کے متعلقین کو ان کے مالی حقوق نہ دینا یا کم دینا یا بلاوجہ تاخیر کر کے دینایا ان کو چھوڑ کر دوسروں پر صدقہ کرتے پھرنا اور ان کا خیال نہ رکھنا انہیں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔اور گناہ ہے۔انسانوں کے علاوہ زیر ملکیت جانوروں اور پرندوں کے حقوق مارنے پر بھی یہی وعید ہے۔اس معنی ومفہوم کے ساتھ ساتھ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے۔کہ انسان جس کی طرف سے اس کو رزق وخرچ مل رہا ہو اس کو ضائع کردے۔۔۔یعنی اگر وہ خدمت کا حقداار ہے۔تو اس کی خدمت نہ کرے۔مثلا ً بیوی کے لئے شوہر اور اولاد کےلئے باپ۔۔۔یا اس کا احسان مند نہ ہو۔ مثلا بھائی کے لئے بھائی یا خوامخواہ اس میں عیب جوئی کرتے رہنا۔کوئی تقصیر ہوجائے تو درگزر نہ کرنا وغیرہ کہ ان اسباب سے انسان کا وسیلہ رزق ختم ہوجائے یا الفت ومودت اور صلہ رحمی کےروابط ختم ہوجایئں۔ اور اسے ضائع کر بیٹھے تو یہ گناہ کی بات ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدا امی وابی کے اس قسم کے ارشادات آپ کے صاحب جوامع الکلم ہونے کی دلیل ہیں۔ <عربی> (اللهم صل وبارك وسلم عليه ]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1692]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:610
610- سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، جن لوگوں کو خوراک فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے، وہ انہیں ضائع کردے (یعنی ان کی ضرو ریات کا بند و بست نہ کرے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:610]
فائدہ:
اس حدیث میں نان و نفقہ کی ذمہ داری ادا کرنے کا ذکر ہے کہ جو شخص اہل و عیال پر خرچ نہیں کرتا وہ مجرم ہے، اور یہ معلوم شے ہے کہ صدقہ کی افضل ترین صورت اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 610]

Sunan Abi Dawud Hadith 1692 in Urdu