🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. باب الوضوء من مس اللحم النيء وغسله
باب: کچا گوشت چھونے یا دھونے سے وضو کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ المعنى، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ هِلَالٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ أَيُّوبُ وَعَمْرٌو أراه عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبْطِ، ثُمَّ مَضَى فَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي لَمْ يَمَسَّ مَاءً، وَقَالَ: عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا، لَمْ يَذْكُرْا أَبَا سَعِيدٍ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں (عملی طور پر کھال اتار کر) دکھاتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے «عن هلال بن ميمون الرملي» (بصیغہ عنعنہ) کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے، ہلال نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور ابوسعید (صحابی) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الذبائح 6 (3179)، (تحفة الأشراف: 4158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ کی تعلیم کا ایک پہلو یہ بھی تھا جو اوپر مذکور ہوا کہ کام کو عمدہ اور خوبصورت انداز میں سر انجام دیا جائے۔ چربی کی چکناہٹ اور گوشت کی خاص مہک اور اس کا خون لگنے سے طہارت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ انسان کو بہت زیادہ نفیس اور نازک مزاج بھی نہیں بن جانا چاہیے کہ اس قسم کے کاموں سے اہتمام غسل یا کپڑے تبدیل کرنا پڑیں۔ ہمیں بھی کبھی اگر ایسا موقع ملے تو سنت پر عمل کرنا چاہیے اور چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد
Newعطاء بن يزيد الجندعي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥هلال بن ميمون الجهني، أبو علي، أبو المغيرة، أبو معبد
Newهلال بن ميمون الجهني ← عطاء بن يزيد الجندعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله
Newمروان بن معاوية الفزاري ← هلال بن ميمون الجهني
ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ
👤←👥أيوب بن محمد الوزان، أبو محمد، أبو سليمان
Newأيوب بن محمد الوزان ← مروان بن معاوية الفزاري
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← أيوب بن محمد الوزان
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عمرو بن عثمان القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
185
تنح حتى أريك فأدخل يده بين الجلد واللحم فدحس بها حتى توارت إلى الإبط صلى للناس ولم يتوضأ
سنن ابن ماجه
3179
تنح حتى أريك فأدخل رسول الله يده بين الجلد واللحم فدحس بها حتى توارت إلى الإبط وقال يا غلام هكذا فاسلخ صلى للناس ولم يتوضأ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 185 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 185
فوائد و مسائل:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ایک پہلو یہ بھی تھا، جو اوپر مذکور ہوا کہ کام عمدہ اور خوبصورت انداز میں سرانجام دیا جائے۔
➋ چربی کی چکناہٹ اور گوشت کی خاص مہک اور اس کا خون لگنے سے طہارت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
➌ انسان کو بہت زیادہ نفیس اور نازک مزاج بھی نہیں بن جانا چائیے کہ اس قسم کے کاموں سے اہتمام غسل یا کپڑے تبدیل کرنا پڑیں۔ چاہیے کہ معمولات زندگی میں تکلفات کی بجائے سادگی کو اختیار کیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 185]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3179
کھال اتارنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3179]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کوئی کام سکھانے کے لیے عملی نمونہ پیش کرنا بہترین طریقہ ہے۔

(2)
اگر کوئی نو آموز کسی کام کو اچھی طرح انجام نہ دے رہا ہو تو بزرگوں کو چاہیے کہ اسے ڈانٹنے جھڑکنے کے بجائے خود وہ کام کرکے دکھائیں اور مناسب رہنمائی کریں۔

(3)
کھال اتارنے یا گوشت اتارنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

(4)
نماز کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اگر چھوٹا موٹا کام کردیا جائے، جس سے نماز میں تاخیر نہ ہو کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3179]