سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب يوم الحج الأكبر
باب: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟
حدیث نمبر: 1946
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَالْحَجُّ الْأَكْبَرُ الْحَجُّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1946]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ان لوگوں کے ساتھ بھیجا جنہوں نے قربانی کے روز منیٰ میں یہ اعلان کیا تھا کہ ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ اور کوئی شخص بے لباس ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ اور قربانی کا دن ( «يَوْمُ النَّحْرِ» ہی) حجِ اکبر کا دن ہے۔“ اور حجِ اکبر سے مراد حج ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 10 (369)، والحج 67 (1622)، صحیح البخاری/الجزیة 16 (3177)، والمغازي 66 (4363)، وتفسیر البرائة 2 (4656)، 3 (4655)، وتفسیر البرائة 4 (4657)، صحیح مسلم/الحج 78 (1347)، سنن النسائی/الحج 161 (2960)، مسند احمد (2/299)، (تحفة الأشراف: 6624) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ويوم الحج الأكبر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3177) صحيح مسلم (1347)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1946 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1946
1946. اردو حاشیہ:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج سے ایک سال پہلے نو ہجری میں حضرت ابوبکر کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا تھا اور اس موقع پر سورہ براءۃ (سورہ توبہ)کی آیات کے ذریعے سے کفار سے اعلان براءت کیا گیا تھا۔
➋ مشرکین کو حرم میں داخلہ کی اجازت نہیں۔ انہیں طاقت کے ذریعے سے اس سے روکا جانا ضروری ہے۔
➌ طواف کے لیے ستر واجب ہے۔
➍ یوم النحر (قربانی کا دن)حج اکبر کا دن ہے۔ سورہ توبہ میں ہے ﴿وَأَذٰنٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ إِلَى النّاسِ يَومَ الحَجِّ الأَكبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرىءٌ مِنَ المُشرِكينَ ۙ وَرَسولُهُ.......﴾ (التوبه:3) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی۔
➎ حج اکبر سےمراد حج ہے۔جبکہ کچھ روایات میں عمرہ کو حج اصغر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ احادیث عوام الناس میں مشہور اس قول کی تردید کرتی ہیں کہ جب یوم عرفہ اور یوم جمعہ جمع ہو جائیں تو وہ حج اکبر ہوتاہے۔ نہیں! بلکہ ہر حج خواہ وہ کسی بھی روز ہو حج اکبر ہی ہوتا ہے۔ جمعہ کے روز یوم عرفہ کا واقع ہونا ایک اتفاقی امر ہے اور اللہ کےہاں قبولیت میں کوئی فرق نہیں۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج سے ایک سال پہلے نو ہجری میں حضرت ابوبکر کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا تھا اور اس موقع پر سورہ براءۃ (سورہ توبہ)کی آیات کے ذریعے سے کفار سے اعلان براءت کیا گیا تھا۔
➋ مشرکین کو حرم میں داخلہ کی اجازت نہیں۔ انہیں طاقت کے ذریعے سے اس سے روکا جانا ضروری ہے۔
➌ طواف کے لیے ستر واجب ہے۔
➍ یوم النحر (قربانی کا دن)حج اکبر کا دن ہے۔ سورہ توبہ میں ہے ﴿وَأَذٰنٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ إِلَى النّاسِ يَومَ الحَجِّ الأَكبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرىءٌ مِنَ المُشرِكينَ ۙ وَرَسولُهُ.......﴾ (التوبه:3) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی۔
➎ حج اکبر سےمراد حج ہے۔جبکہ کچھ روایات میں عمرہ کو حج اصغر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ احادیث عوام الناس میں مشہور اس قول کی تردید کرتی ہیں کہ جب یوم عرفہ اور یوم جمعہ جمع ہو جائیں تو وہ حج اکبر ہوتاہے۔ نہیں! بلکہ ہر حج خواہ وہ کسی بھی روز ہو حج اکبر ہی ہوتا ہے۔ جمعہ کے روز یوم عرفہ کا واقع ہونا ایک اتفاقی امر ہے اور اللہ کےہاں قبولیت میں کوئی فرق نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1946]
Sunan Abi Dawud Hadith 1946 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← أبو بكر الصديق