🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في البتة
باب: طلاق بتہ (یعنی قطعی طلاق) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2206
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟" فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ.
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ۱؎ (قطعی طلاق) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2206]
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو «الْبَتَّةَ» (بتہ) طلاق دے دی۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس سے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا تو نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟ رکانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کو ان پر لوٹا دیا۔ چنانچہ انہوں نے اسے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا ابتدائی حصہ ابراہیم بن خالد کلبی کے الفاظ ہیں اور آخری ابن السرح کے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطلاق 2 (1177)، ق / الطلاق 19 (2051)، (تحفة الأشراف: 3613)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ الطلاق 8 (2318) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی نافع مجہول ہیں، نیز اس حدیث میں بہت ہی اضطراب ہے اس لئے بروایت امام ترمذی امام بخاری نے بھی اس کو ضعیف قرارد یا ہے)
وضاحت: ۱؎: البتہ: «بتّ» کا اسم مرہ ہے، البتہ اور «بتات» کے معنی یقیناً اور قطعاً کے ہیں، طلاق بتہ یا البتہ ایسی طلاق جو یقینی اور قطعی طور پر پڑ چکی ہے، اورصحیح احادیث کی روشنی میں تین طلاق سنت کے مطابق تین طہر میں دی جائے، تو اس کے بعد یہ طلاق قطعی اور بتہ ہو گی، واضح رہے کہ یزید بن رکانہ کی یہ حدیث ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3283)
ونقل الدارقطني (4/33 ح 3933) بسند صحيح عن أبي داود قال: ’’وھذا حديث صحيح‘‘ وأعل بما لا يقدح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ركانة بن عبد يزيد القرشيصحابي
👤←👥نافع بن عجير القرشي
Newنافع بن عجير القرشي ← ركانة بن عبد يزيد القرشي
مختلف في صحبته
👤←👥عبد الله بن علي القرشي
Newعبد الله بن علي القرشي ← نافع بن عجير القرشي
مقبول
👤←👥محمد بن علي القرشي
Newمحمد بن علي القرشي ← عبد الله بن علي القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن إدريس الشافعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إدريس الشافعي ← محمد بن علي القرشي
المجدد لأمر الدين على رأس المائتين
👤←👥إبراهيم بن خالد الكلبي، أبو ثور، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن خالد الكلبي ← محمد بن إدريس الشافعي
ثقة
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← إبراهيم بن خالد الكلبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1177
ما أردت بها قلت واحدة قال والله قلت والله قال فهو ما أردت
سنن أبي داود
2208
ما أردت قال واحدة قال آلله قال آلله قال هو على ما أردت
سنن أبي داود
2206
ما أردت إلا واحدة فقال ركانة والله ما أردت إلا واحدة فردها إليه رسول الله
سنن ابن ماجه
2051
ما أردت بها إلا واحدة قال فردها عليه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2206 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2206
فوائد ومسائل:
بتۃ بمعنی قطع (کاٹنا) ہے۔
یعنی طلاق دینے والا کہے کہ میں تجھے بتہ طلاق دیتا ہوں۔
یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع نہیں اور اپنا تعلق پوری طرح کاٹتا ہوں۔
اور اس کی مراد تین طلاق ہو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2206]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2208
طلاق بتہ (یعنی قطعی طلاق) کا بیان۔
رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا نیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہو گا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2208]
فوائد ومسائل:
اس روایت کی صحت میں اختلاف ہے۔
ہمارے فاضل محقق شیخ زبیر علی زئی اور بعض محقیقین کے نزدیک ضعیف ہے ابوداؤد کا یہ کہنا ہے کہ یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے صحیح تر ہے کا یہ معنی ہے کہ یہ فی الواقع اصطلاحی تعریف کے مطابق صحیح ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ سند دوسری کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔
مگر حقیقتا دونوں ہی میں ضعف ہے۔
(دیکھیے ارواءالغلیل:1437)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2208]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1177
آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان۔
رکانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتّہ) دی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس سے کیا مراد لی تھی؟، میں نے عرض کیا: ایک طلاق مراد لی تھی، آپ نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: تو یہ اتنی ہی ہے جتنی کا تم نے ارادہ کیا تھا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1177]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی ضعیف ہیں،
اورعلی بن یزید بن رکانہ مجہول ہیں،
نیز بروایتِ ترمذی بقول امام بخاری:
اس حدیث میں سخت اضطراب ہے،
تفصیل کے لیے دیکھئے:
الارواء (رقم 2063)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1177]

Sunan Abi Dawud Hadith 2206 in Urdu