🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ
باب: آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِيَ الْبَتَّةَ، فَقَالَ: " مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ " قُلْتُ: وَاحِدَةً، قَالَ: " وَاللَّهِ؟ " قُلْتُ: وَاللَّهِ، قَالَ: " فَهُوَ مَا أَرَدْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: فِيهِ اضْطِرَابٌ وَيُرْوَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي طَلَاقِ الْبَتَّةِ، فَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ جَعَلَ الْبَتَّةَ وَاحِدَةً وَرُوِيَ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ جَعَلَهَا ثَلَاثًا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: فِيهِ نِيَّةُ الرَّجُلِ، إِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ، وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ، وَإِنْ نَوَى ثِنْتَيْنِ لَمْ تَكُنْ إِلَّا وَاحِدَةً، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْبَتَّةِ: إِنْ كَانَ قَدْ دَخَلَ بِهَا فَهِيَ ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ، وَإِنْ نَوَى ثِنْتَيْنِ فَثِنْتَانِ، وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ.
رکانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتّہ) دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اس سے کیا مراد لی تھی؟“، میں نے عرض کیا: ایک طلاق مراد لی تھی، آپ نے پوچھا: ”اللہ کی قسم؟“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: ”تو یہ اتنی ہی ہے جتنی کا تم نے ارادہ کیا تھا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں اضطراب ہے، عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں،
۳- اہل علم صحابہ کرام وغیرہم میں سے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے طلاق بتہ کو ایک طلاق قرار دی ہے،
۴- اور علی رضی الله عنہ سے مروی ہے انہوں نے اسے تین طلاق قرار دی ہے،
۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں آدمی کی نیت کا اعتبار ہو گا۔ اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہو گی اور اگر تین کی کی ہے تو تین ہو گی۔ اور اگر اس نے دو کی نیت کی ہے تو صرف ایک شمار ہو گی۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے،
۶- مالک بن انس قطعی طلاق (بتّہ) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر عورت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دخول ہو چکا ہے تو طلاق بتّہ تین طلاق شمار ہو گی،
۷- شافعی کہتے ہیں: اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہو گی اور اسے رجعت کا اختیار ہو گا۔ اگر دو کی نیت کی ہے تو دو ہو گی اور اگر تین کی نیت کی ہے تو تین شمار ہو گی۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطلاق 14 (2208)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 19 (2051) سنن الدارمی/الطلاق 8 (2318)، (تحفة الأشراف: 3613) (ضعیف) (سند میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی ضعیف ہیں، اور علی بن یزید بن رکانہ مجہول ہیں، نیز بروایتِ ترمذی بقول امام بخاری: اس حدیث میں سخت اضطراب ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: الارواء (رقم 2063)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (2051) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (444) ، ضعيف أبي داود (479 / 2206) ، الإرواء (2063) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1177) إسناده ضعيف / د 2208، جه 2051


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ركانة بن عبد يزيد القرشيصحابي
👤←👥علي بن يزيد القرشي
Newعلي بن يزيد القرشي ← ركانة بن عبد يزيد القرشي
مقبول
👤←👥عبد الله بن علي القرشي
Newعبد الله بن علي القرشي ← علي بن يزيد القرشي
مقبول
👤←👥الزبير بن سعيد القرشي، أبو هاشم، أبو القاسم
Newالزبير بن سعيد القرشي ← عبد الله بن علي القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← الزبير بن سعيد القرشي
ثقة
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر
Newقبيصة بن عقبة السوائي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← قبيصة بن عقبة السوائي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1177
ما أردت بها قلت واحدة قال والله قلت والله قال فهو ما أردت
سنن أبي داود
2208
ما أردت قال واحدة قال آلله قال آلله قال هو على ما أردت
سنن أبي داود
2206
ما أردت إلا واحدة فقال ركانة والله ما أردت إلا واحدة فردها إليه رسول الله
سنن ابن ماجه
2051
ما أردت بها إلا واحدة قال فردها عليه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1177 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1177
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی ضعیف ہیں،
اورعلی بن یزید بن رکانہ مجہول ہیں،
نیز بروایتِ ترمذی بقول امام بخاری:
اس حدیث میں سخت اضطراب ہے،
تفصیل کے لیے دیکھئے:
الارواء (رقم 2063)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1177]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2206
طلاق بتہ (یعنی قطعی طلاق) کا بیان۔
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ۱؎ (قطعی طلاق) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟“ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2206]
فوائد ومسائل:
”بتۃ“ بمعنی قطع (کاٹنا) ہے۔
یعنی طلاق دینے والا کہے کہ میں تجھے بتہ طلاق دیتا ہوں۔
یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع نہیں اور اپنا تعلق پوری طرح کاٹتا ہوں۔
اور اس کی مراد تین طلاق ہو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2206]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2208
طلاق بتہ (یعنی قطعی طلاق) کا بیان۔
رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا نیت کی تھی؟“ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہو گا۔‏‏‏‏“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2208]
فوائد ومسائل:
اس روایت کی صحت میں اختلاف ہے۔
ہمارے فاضل محقق شیخ زبیر علی زئی اور بعض محقیقین کے نزدیک ضعیف ہے ابوداؤد کا یہ کہنا ہے کہ یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے صحیح تر ہے کا یہ معنی ہے کہ یہ فی الواقع اصطلاحی تعریف کے مطابق صحیح ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ سند دوسری کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔
مگر حقیقتا دونوں ہی میں ضعف ہے۔
(دیکھیے ارواءالغلیل:1437)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2208]

ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ، فوائد و مسائل، تحت الحديث الجامع الكامل : 6570
والثانی: اس پر صرف ایک ہی طلاق لازم ہوگی۔
یہ قول امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کے بعض اصحاب کا ہے۔ یہ سلف و خلف کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں ذکر کیا ہے۔
اس مسئلے میں درست بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ملک کے دارالافتاء سے رجوع کرے، تاکہ اپنے معاملے میں تضاد اور تذبذب کا شکار نہ ہو۔ اللہ ہی سیدھی راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔
حسن: اسے امام احمد (2387)، امام ابو یعلیٰ (25) اور امام بیہقی (7/339) رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔ ان سب نے یہ روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے لی ہے، جو کہتے ہیں: مجھ سے داود بن حصین نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث ذکر کی۔
محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
رہے داود بن حصین، تو وہ فی نفسہ ثقہ اور جماعت کے رجال میں سے ہیں۔ امام ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں مطلقاً ثقہ کہا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب ان سے کوئی ثقہ روایت کرے تو یہ صالح الحدیث ہیں۔“ لیکن امام ابن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہوں نے عکرمہ سے جو کچھ روایت کیا ہے وہ منکر ہے۔“ اور امام ابو داود رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کی اپنے شیوخ سے روایات درست ہیں، مگر عکرمہ سے ان کی روایات منکر ہیں۔“
لیکن جب اس کے ساتھ ابن جریج کی روایت ملائی جائے تو حدیث قوی ہو جاتی ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔
یہ وہ روایت ہے جسے امام عبدالرزاق (11334) نے، اور ان سے امام ابو داود (2196) رحمہما اللہ نے، مذکورہ طریق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: رکانہ اور ان کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اپنے سر کا ایک بال پکڑا اور کہنے لگی: ”یہ میرے کسی کام کا نہیں، بس اتنا ہی جتنا یہ بال کام آتا ہے، لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجیے۔“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرت آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ اور ان کے بھائیوں کو بلایا، پھر اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم دیکھتے ہو کہ فلاں، عبد یزید سے فلاں فلاں بات میں مشابہ ہے؟ اور فلاں، اس سے فلاں فلاں بات میں مشابہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکانہ اور اس کے بھائیوں کی والدہ، اپنی بیوی سے رجوع کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں تو اسے تین طلاقیں دے چکا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو)۔
اس سند میں سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے یہ راوی مجہول ہے۔ ان کی اولاد تابعین میں سے ہے، اور پہلی سند میں ان کی متابعت موجود ہے۔
دونوں طرق کے جمع ہونے سے حدیث کو قوت ملتی ہے، کیونکہ دونوں اس مضمون پر متفق ہیں کہ انہوں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک قرار دیا اور رجوع کا حکم فرمایا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کی روایت کو راجح قرار دیا اور فرمایا: ”یہ حدیث اس مسئلے میں نص ہے۔ اس میں وہ تاویل قبول نہیں کی جا سکتی جو آگے ذکر ہونے والی دیگر روایات میں کی جاتی ہے ....“ (فتح الباری: 9/362)
پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہی مذہب سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا۔ یہ قول ابن مغیث نے اپنی ”کتاب الوثائق“ میں نقل کیا ہے اور اسے محمد بن وضاح کی طرف منسوب کیا ہے۔ غنوی نے اسے قرطبہ کے مشائخ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے، جیسے محمد بن بقی بن مخلد اور محمد بن عبدالسلام خشنی وغیرہ۔ امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے نقل کیا ہے، جیسے عطاء، طاوس اور عمرو بن دینار رحمہم اللہ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن التین پر تعجب ہے کہ انہوں نے یقین سے کہہ دیا کہ تین طلاقوں کے لازم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس کے حرام ہونے میں ہے، حالانکہ اختلاف ثابت ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ ابن اسحاق کی مذکورہ حدیث کو وہ روایت بھی تقویت دیتی ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرزاق کے طریق سے روایت کیا ہے: عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے عبداللہ بن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے..... پھر وہ حدیث ذکر کی۔“ انتہیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتووں میں اختلاف:
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ایک شخص آیا اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ اس کی بیوی اسے لوٹا دیں گے۔ پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی جا کر حماقت کر بیٹھتا ہے، پھر آ کر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ (اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے) [الطلاق: 2] ۔ تم اللہ سے نہیں ڈرے، اس لیے میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔ تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو) [الطلاق: 1] ۔“
اسے امام ابو داود رحمہ اللہ (2197) نے حمید بن مسعدہ سے روایت کیا ہے: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں ایوب نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے، اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی، پھر یہ واقعہ ذکر کیا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسی طرح سعید بن جبیر، عطاء، مالک بن حارث اور عمرو بن دینار نے بھی اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سب نے تین طلاقوں کے بارے میں اپنی روایت میں بیان کیا کہ آپ نے انہیں نافذ قرار دیا اور فرمایا: تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔“
حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: ”جب کوئی ایک ہی بار میں کہے: تجھے تین طلاق، تو وہ ایک ہی ہوگی۔“
لیکن اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، اور انہوں نے عکرمہ سے، یہی بات عکرمہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو قول منقول ہیں:
پہلا قول: جسے ان کے جمہور شاگردوں نے روایت کیا ہے، کہ آپ نے تین کے لفظ سے دی گئی تین طلاقوں کو نافذ قرار دیا۔
دوسرا قول: تین طلاقوں کا واقع نہ ہونا، جیسا کہ عکرمہ کی ان سے روایت میں ہے۔ دونوں قولوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ آپ پہلے تین طلاقوں کے نفاذ کے قائل تھے، پھر آپ پر واضح ہوا کہ یہ ایک ہی ہے تو آپ نے اسی کی طرف رجوع کر لیا، جیسا کہ آپ نے بیعِ صرف کے مسئلے میں رجوع کیا تھا۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ تین طلاقوں سے عورت اپنے شوہر سے جدا ہو جاتی ہے، خواہ اس سے دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔ یہ ان کی بیعِ صرف والی دوسری روایت کی مانند ہے، جس میں انہوں نے ایک بات کہی اور پھر اس سے رجوع کر لیا۔“ یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ انتہیٰ۔
یہی آخری قول حدیثِ رکانہ کی تائید کرتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسی کی نصرت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”فتح الباری“ میں اس کے دیگر جوابات بھی دیے ہیں، وہاں رجوع کیجیے۔
رہی وہ روایت جو نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے مروی ہے، تو وہ ضعیف ہے۔ اس میں ہے کہ سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو ”البتہ“ طلاق دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں لوٹا دی۔ پھر انہوں نے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تیسری سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دی۔
اسے امام ابو داود رحمہ اللہ (226) نے ابن السرح اور ابراہیم بن خالد کلبی ابو ثور سمیت کئی راویوں سے روایت کیا ہے۔ وہ سب کہتے ہیں: ہم سے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے چچا محمد بن علی بن شافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن علی بن سائب سے، اور انہوں نے نافع بن عجیر سے یہ روایت ذکر کی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ ابن جریج کی حدیث کے بعد فرماتے ہیں: ”نافع بن عجیر کی حدیث، اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جو وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں لوٹا دی، زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اسی شخص کی اولاد ہیں اور گھر والے اس کے معاملے کو زیادہ جانتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو صرف البتہ طلاق دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قرار دیا۔“ انتہیٰ۔
میں کہتا ہوں: لیکن اس میں نافع بن عجیر ہیں جن کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ انہیں شرفِ صحابیت حاصل تھا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے، اور ان کے سوا کسی نے انہیں ثقہ نہیں کہا، لہٰذا جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ ”مجہول“ ہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مجہول ہے، اس کا حال بالکل معلوم نہیں۔“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لیکن علل الحدیث اور فقہ الحدیث کو جاننے والے بڑے ائمہ، جیسے امام احمد، امام بخاری، امام ابو عبید اور ابو محمد ابن حزم رحمہم اللہ وغیرہ نے البتہ والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کے راوی مجہول لوگ ہیں جن کی عدالت اور ضبط معلوم نہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے تین طلاقوں والی حدیث کو ثابت مانا اور بتایا کہ یہی درست ہے۔ چنانچہ ان کا قول ہے: رکانہ کی یہ حدیث کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی، ثابت نہیں۔ اور یہ بھی فرمایا: رکانہ کی البتہ والی حدیث کچھ نہیں، کیونکہ ابن اسحاق، داود بن حصین سے، وہ عکرمہ سے، اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔“
”اہلِ مدینہ تین طلاقیں دینے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے البتہ طلاق دی۔ امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے صرف اس لیے عدول کیا کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی موافقت میں تین طلاقوں کو جائز سمجھتے تھے۔“ انتہیٰ۔
مجموع الفتاویٰ (15/33)
اسی طرح وہ روایت بھی صحیح نہیں جو عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے، اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ایک کا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ اسی پر ہے جس کا تم نے ارادہ کیا۔“
اسے امام ابو داود (228)، امام ترمذی (1177) اور امام ابن ماجہ (251) رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے، اور امام ابن حبان (4274) اور امام حاکم (2/199) رحمہما اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ان سب نے اسے جریر بن حازم کی سند سے روایت کیا ہے، انہوں نے زبیر بن سعید سے، اور انہوں نے عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ سے یہ روایت ذکر کی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت ابن جریج کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، کیونکہ یہ ان کے گھر والے ہیں اور ان کے معاملے کو زیادہ جانتے ہیں۔ ابن جریج نے تو اپنی حدیث ابو رافع کی اولاد میں سے کسی سے روایت کی ہے، جو عکرمہ سے اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔“ انتہیٰ۔
لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ میں نے امام محمد (بن اسماعیل بخاری) رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس میں اضطراب ہے۔ عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔“ انتہیٰ۔
میں کہتا ہوں: اس کی سند میں زبیر بن سعید ضعیف ہے۔ آجری نے امام ابو داود رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: ”اس کی حدیث میں نکارت ہے۔ مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ میں نے امام ابن معین رحمہ اللہ کو کہتے سنا: وہ ضعیف ہے۔“
ایک بار انہوں نے کہا: ”مجھے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا۔“ لیکن دوری کی امام ابن معین رحمہ اللہ سے روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ثقہ ہے۔“ ایک بار فرمایا: ”کچھ بھی نہیں۔“ اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شیخ ہے۔“
اس میں عبداللہ بن علی بن یزید بھی ہیں، جنہیں امام ابن حبان رحمہ اللہ کے سوا کسی نے ثقہ نہیں کہا، اور ان سے زبیر بن سعید کے سوا کسی نے روایت نہیں کی۔ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی۔“ یہ مضطرب الحدیث ہیں اور انہوں نے طلاق کے بارے میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ان کے والد علی بن یزید کو بھی امام ابن حبان رحمہ اللہ کے سوا کسی نے ثقہ نہیں کہا، اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث صحیح نہیں۔“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرے شوہر نے یمن کی طرف روانہ ہوتے وقت مجھے تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا۔“
اسے امام ابن ماجہ رحمہ اللہ (224) نے محمد بن رافع سے روایت کیا ہے: ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی، انہوں نے اسحاق بن ابی فروہ سے، انہوں نے ابو الزناد سے، اور انہوں نے عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت کی۔ امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ”مجھے اپنی طلاق کا واقعہ سنائیے۔“ تو انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔
اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیونکہ اسحاق بن ابی فروہ، یعنی اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ، متروک ہے۔ شاید امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کو اس کے الفاظ ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا“ سے یہ گمان ہوا کہ یہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں تھیں، اس لیے انہوں نے اس پر یہ باب قائم کیا: ”باب: جس نے ایک ہی مجلس میں طلاقیں دیں۔“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے میں صحیح یہ ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں الگ الگ طلاقیں دی تھیں، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو وہ طلاق بھیجی جو ان کی طلاقوں میں سے باقی رہ گئی تھی (صحیح مسلم: 148/41)۔ لہٰذا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا“ کے الفاظ اسحاق بن ابی فروہ کا اپنا تصرف ہیں، ورنہ احادیث میں صرف یہ ہے: ”اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ نفقہ۔“
اہم فوائد:
طلاق کی تین قسمیں ہیں:
1- طلاقِ رجعی: وہ طلاق جس میں شوہر عورت کی مرضی کے بغیر رجوع کر سکتا ہے۔ اگر عدت کے دوران دونوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو دوسرا اس کا وارث ہوتا ہے۔
2- طلاقِ بائن: وہ طلاق جس کے بعد شوہر کی حیثیت محض نکاح کا پیغام دینے والے کی رہ جاتی ہے، اور عورت اس کے لیے صرف نئے نکاح سے حلال ہوتی ہے۔
3- طلاقِ مغلظہ: جس کے بعد عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔
ایک ہی طہر میں ایک کلمے یا کئی کلمات سے طلاق:
مثلاً یوں کہے: ”تجھے تین طلاق۔“
یا: ”تجھے طلاق، طلاق، طلاق۔“
یا: ”تجھے طلاق، پھر طلاق، پھر طلاق۔“
یا: ”تجھے تین طلاق، یا سو، یا ہزار۔“
اس بارے میں علماء کے دو قول ہیں:
پہلا قول یہ ہے کہ اس سے تین طلاقیں لازم ہو جاتی ہیں۔
یہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ کا قول ہے، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا بھی۔ ان کے اکثر اصحاب نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے بہت سے سلف کا بھی یہی قول ہے۔
[ الجامع الكامل ، حدیث/صفحہ نمبر: 6570]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1177 in Urdu