🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
97. باب في المرأة ترى ما يرى الرجل
باب: عورت کو مرد ہی کی طرح (خواب میں) احتلام ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيَّةَ هِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، أَتَغْتَسِلُ أَمْ لَا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَلْتَغْتَسِلْ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا، فَقُلْتُ: أُفٍّ لَكِ، وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ الْمَرْأَةُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرِبَتْ يَمِينُكِ يَا عَائِشَةُ، وَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَى عُقيْلٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ،وَيُونُسُ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَوَافَقَ الزُّهْرِيُّ مُسَافِعًا الْحَجَبِيَّ، قَالَ: عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ، وَأَمَّا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، فَقَالَ: عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم انصاریہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل حق سے نہیں شرماتا، آپ ہمیں بتائیے اگر عورت سوتے میں وہ چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے یا نہیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب وہ تری دیکھے تو ضرور غسل کرے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ام سلیم کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے ان سے کہا: تجھ پر افسوس! کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عائشہ! تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو ۱؎ (والدین اور ان کی اولاد میں) مشابہت کہاں سے ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 237]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا والدہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا۔ یہ فرمائیے کہ جب عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے یا نہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہیے کہ غسل کرے جب وہ پانی (نکلنے) کا اثر محسوس کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس (ام سلیم) کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا: اف! بھلا عورت بھی کوئی ایسا دیکھتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، (بچے میں) مشابہت کہاں سے آتی ہے؟ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ زبیدی، عقیل، یونس اور زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم، چاروں نے) زہری سے، اور ایسے ہی ابن ابی الوزیر (ابراہیم بن عمر) نے بواسطہ مالک، زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے (یعنی یہ مکالمہ سیدہ عائشہ اور ام سلیم کے مابین ہوا ہے) نیز مسافع حجبی نے (بھی) زہری کی موافقت میں بواسطہ عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی روایت کیا ہے، مگر ہشام بن عروہ بواسطہ عروہ عن زینب بنت ابی سلمہ کی سند سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام سلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16607(الف)، 16739)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 7 (311،313، 314)، سنن الترمذی/الطہارة 90 (122)، سنن النسائی/الطہارة 131 (196)، سنن ابن ماجہ/الطہارة (601)، موطا امام مالک/الطھارة 21 (85)، مسند احمد (6/92)، سنن الدارمی/الطھارة 75 (790) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حیرت و استعجاب کے موقع پر اس طرح کا جملہ بولا جاتا ہے جس کا مقصد بددعا نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (314)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عنبسة بن خالد القرشي، أبو عثمان
Newعنبسة بن خالد القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عنبسة بن خالد القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
237
لتغتسل إذا وجدت الماء قالت عائشة فأقبلت عليها فقلت أف لك وهل ترى ذلك المرأة فأقبل علي رسول الله فقال تربت يمينك يا عائشة ومن أين يكون الشبه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 237 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 237
فوائد و مسائل:
➊ امام ابوداود رحمہ اللہ اپنی بحث میں زہری اور ہشام بن عروہ کے مابین اختلاف کا ذکر کر رہے ہیں کہ یہ مکالمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا، تو امام صاحب کے نزدیک ترجیح زہری کی روایت کو ہے یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مکالمے کو۔ انہوں نے اسی کے شواہد ذکر کیے ہیں، مگر قاضی عیاض کی تحقیق میں یہ مکالمہ سیدہ ام سلمہ اور ام سلیم کے مابین ہوا ہے۔ اس طرح ترجیح ہشام بن عروہ کی روایت کو ہو گی اور امام بخاری رحمہ اللہ کا میلان بھی اسی طرف ہے۔ [صحيح بخاري حديث: 130]
تاہم علامہ نووی نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ دونوں ہی اس موقع پر موجود ہوں اور دونوں نے تعجب کا اظہار کیا ہو۔ «والله اعلم» [عون المعبود]
➋ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ جملہ جو انہوں نے اپنے سوال سے پہلے کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شر ماتا ان کے کمال حسن ادب پر دلیل ہے، یعنی جو بات عرفاً زبان پر نہیں لائی جاتی اور مجھے اس کی شرعاًً ضرورت ہے، بتائی جائے۔
➌ امہات المؤمنین کا اس سوال پر اظہار تعجب دلیل ہے کہ یہ کمال درجے کی طیبات و طاہرات تھیں، اس حد تک کہ انہیں خواب میں بھی کبھی برائی کا خیال نہ آیاتھا۔ [من افادات الشيخ سلطان محمود رحمه الله]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 237]

Sunan Abi Dawud Hadith 237 in Urdu