سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. باب في قتل الأسير بالنبل
باب: قیدی کو باندھ کر تیروں سے مار ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ ابْنِ تِعْلَى، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبِعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ لَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: بِالنَّبْلِ صَبْرًا فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا"، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ.
ابن تعلی کہتے ہیں کہ ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور ہٹے کٹے کافر لائے گئے انہوں نے ان کے متعلق حکم دیا تو وہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے (اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے) چار غلام آزاد کئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2687]
ابن تعلی (عبید ابن تعلی) کی روایت ہے کہ ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کی معیت میں جہاد کیا۔ ان کے سامنے دشمن کافر کے چار افراد لائے گئے جو عجمی تھے اور بڑے طاقتور تھے۔ پس انہوں نے حکم دیا اور انہیں بندھے بندھے قتل کر دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ابن وہب کے شاگرد سعید کے علاوہ دوسروں نے ہمیں یوں بیان کیا کہ ”ان کو تیر سے مارا گیا جبکہ وہ بندھے ہوئے تھے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح قتل کرنے سے منع فرماتے تھے۔“ (ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا:) ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایک مرغی بھی ہو تو اس کو باندھ کر نہ ماروں۔“ جناب عبدالرحمٰن بن خالد کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے چار گردنیں آزاد کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3475)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/422)، سنن الدارمی/الاضاحي 13 (2017) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بكير بن عبد اللّٰه بن الأشج رواه عن أبيه عن عبيد بن تعلي به انظر مسند أحمد (422/5ح23987)
و أبوه : مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان فيما أعلم فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98
إسناده ضعيف
بكير بن عبد اللّٰه بن الأشج رواه عن أبيه عن عبيد بن تعلي به انظر مسند أحمد (422/5ح23987)
و أبوه : مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان فيما أعلم فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2687
| ينهى عن قتل الصبر فو الذي نفسي بيده لو كانت دجاجة ما صبرتها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2687 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2687
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
اس لئے حجت نہیں۔
حربی کافروں کی ہر طرح سے حسب ضرورت واقتضاء قتل کیا جا سکتا ہے۔
صرف مثلہ کرنا منع ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
اس لئے حجت نہیں۔
حربی کافروں کی ہر طرح سے حسب ضرورت واقتضاء قتل کیا جا سکتا ہے۔
صرف مثلہ کرنا منع ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2687]
Sunan Abi Dawud Hadith 2687 in Urdu
عبيد بن تعلى الطائي ← أبو أيوب الأنصاري